کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں گندم اور آٹے کا بحران ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے روٹی کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ اس بحران کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں: بلوچستان میں گندم کی سالانہ پیداوار صوبے کی مجموعی ضرورت کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ صوبے کی سالانہ طلب اس کی مقامی پیداوار سے کئی گنا زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ زیادہ تر سپلائی کے لیے دوسرے صوبوں (پنجاب اور سندھ) پر منحصر رہتا ہے۔ محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام کے پاس گندم کے سرکاری ذخائر کا محدود ہونا یا بروقت نئے کوٹے کی دستیابی میں مشکلات بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ بنتی ہیں۔ بحران کی شدت کے باعث اوپن مارکیٹ میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عام شہریوں بالخصوص دیہاڑی دار طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ گندم کی باقاعدہ اور مطلوبہ فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے آٹا چکیوں اور فلور ملز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر گندم کی خریداری، ذخائر کو بہتر بنانے اور ضلعی انتظامیہ و فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جیسے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

