اسلام آباد : بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (IIUI) کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں اہم اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس کا مرکزی ملزم نعمان تھانہ رمنا کی حدود میں اپنے ہی ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ سے مارا گیا پولیس ذرائع کے مطابق، اسلام آباد پولیس ملزم نعمان کو کیس سے متعلق ریکوری اور دیگر ملزمان کی نشاندہی کے لیے تھانہ رمنا کے علاقے میں لے جا رہی تھی۔
اس دوران پہلے سے گھات لگائے ملزم کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دیحملہ آوروں کی کوشش ملزم نعمان کو پولیس تحویل سے چھڑوانا تھی حملہ آوروں کی جانب سے کی جانے والی شدید فائرنگ کی زد میں آ کر ملزم نعمان موقع پر ہی شدید زخمی ہوا اور دم توڑ گیا۔
پولیس نے جواب میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ فرار ہونے والے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
یادرہےوفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ہونہار طالبہ لائبہ اعجاز نے مبینہ طور پر امریکہ کے ویزا اور تعلیم کے نام پر لاکھوں روپے کے فراڈ اور ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی کر لی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم نعمان نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (ChatGPT) اور جعلی شناختوں کا سہارا لے کر لائبہ اعجاز کو بیرون ملک تعلیم کے جھانسے میں لیا اور اس سے لاکھوں روپے ہتھیا لیے تھے۔ جعلی دستاویزات اور رقم ڈوبنے کے صدمے سے پریشان ہو کر طالبہ نے انتہائی قدم اٹھایا، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ پر حاصل کیا ہوا تھا۔
لائبہ اعجاز خودکشی کیس: مرکزی ملزم نعمان پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

