ملتان (رپورٹ: ملک جابر عباس)
ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی کے نیچے کچلے جانے والے معصوم بچے کے دلخراش واقعے نے شہر میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے نہ صرف ایک جان نگل لی ہے بلکہ بچوں کی کفالت کے دعویدار اداروں کے اندرونی اور بھیانک رازوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔ابتدائی اطلاعات اور تحریری شواہد کے مطابق، جس بچے کو ایک نجی فرد کے رحم و کرم پر "ہنر سکھانے” کے نام پر چھوڑا گیا تھا، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد یتیم خانے کی انتظامیہ کا مشکوک کردار اور مجرمانہ غفلت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔یتیم خانہ یا غیر قانونی پناہ گاہ؟ اہم انکشافات ذرائع اور تحریری شکایات کے مطابق، ملتان کا یہ متعلقہ یتیم خانہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ساتھ باضابطہ طور پر رجسٹرید ہی نہیں ہے، البتہ اسے چلانے والی این جی او کے پاس رجسٹریشن کا دعویٰ موجود ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس غیر تصدیق شدہ اور نگران نظام سے عاری ادارے میں اس وقت مبینہ طور پر 122 معصوم بچے رہائش پذیر ہیں، جن کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ اس ہولناک سانحے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پنجاب کے چائلڈ پروٹیکشن قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ:صرف گاڑی چلانے والے شخص تک تحقیقات کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ بچے کو اس کے حوالے کرنے والے اس "ادارے” کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔شیلٹر ہوم کی قانونی حیثیت اور بچوں کی دیکھ بھال کے نام پر ہونے والے انتظامات کی فی الفور اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے۔جب تک ادارے کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کا معاملہ واضح نہیں ہوتا، چائلڈ پروٹیکشن بیورو فوری طور پر میدان میں اترے اور وہاں مقیم باقی تمام بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کے نام پر چلنے والے یہ ادارے اگر غفلت کی اس نہج پر پہنچ جائیں، تو یہ سوالیہ نشان بن جاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں معصوم بچوں کے جان و مال کا محافظ کون ہے؟ اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔

