سیول: (بے نقاب نیوز ڈیسک)
جنوبی کوریا کی مشہور کافی شاپ چین "ہولیز” (Hollys) کو ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 27 لاکھ 60 ہزار (2.76 ملین) صارفین کا ذاتی ڈیٹا چوری ہو گیا ہے۔ ملک میں حالیہ برسوں کے دوران ریٹیل سیکٹر کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سسٹمز میں غیر مجاز بیرونی رسائی (Unauthorized Access) کا یہ واقعہ 3 ستمبر سے 7 اکتوبر کے درمیان پیش آیا، جس کا انکشاف بعد میں ہوا۔ ہیکرز کی جانب سے چوری کیے جانے والے ڈیٹا میں صارفین کے نام، یوزر آئی ڈی، پاس ورڈ، تاریخ پیدائش، فون نمبر، گھر کے پتے اور ای میل ایڈریسز شامل ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ ڈیٹا بیس میں وہ معلومات شامل ہیں جو ماضی میں ممبرشپ سروس کی تنظیم نو کے وقت عارضی فائلوں کی شکل میں موجود تھیں، تاہم موجودہ فعال (Active) ڈیٹا بیس کو براہِ راست نقصان پہنچنے کے شواہد کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد ہولیز نے سیکیورٹی کے پیش نظر متاثرہ کلاؤڈ سروس کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے رسائی کے راستے بند کر دیے ہیں اور سیکیورٹی سسٹمز کو مزید سخت کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے انہیں اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے اور نامعلوم ذرائع سے آنے والے پیغامات یا کالز سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ جنوبی کوریا کے متعلقہ نجی نوعیت کے ریگولیٹرز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

