اسلام آباد : چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف نیب کے کیسز پہلے ہی کھلے ہوئے ہیں اور متعلقہ اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی (MNAs & MPAs) اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں، البتہ احتیاطی تدابیر اور عزت نفس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اب اس کی میڈیا پر تشہیر نہیں کی جا رہی۔
میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران چیئرمین نیب نے نیب کی کارکردگی، ریکوریز، ملکی معیشت اور بیرونی ممالک کے دوہرے معیار پر کھل کر بات کی۔
جب یہ سوال پوچھا گیا کہ موجودہ حکومت کے کیسز کب کھلیں گے تو چیئرمین کا کہنا تھا کہ "کس نے کہا کیس نہیں کھلے؟ موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ہیں، متعلقہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پتہ ہے کہ کس کس کا کیس کھلا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب میڈیا پر اس کی تشہیر نہیں کی جاتی”۔
انہوں نے بتایا کہ بغیر کسی کی پگڑی اچھالے اور عزت کو اچھالے اگر کسی سے بازپرس کی جائے تو وہ فوری طور پر لوٹی ہوئی رقم واپس کر دیتا ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب نے اتنی بڑی ریکوریز کر کے دی ہیں کہ شاید اتنا تو پاکستان کا کل بجٹ بھی نہیں ہوتا، اور ان کی ریکوریز میں کسی قسم کا کوئی "مصالحہ” یا سیاسی انتقام شامل نہیں ہوتا۔ "آپ کو کیا کسی کا کٹا ہوا سر چاہیے یا پگڑیاں چاہئیں؟ میں کسی کا نام اس لیے نہیں دیتا کہ ممکن ہے وہ کل عدالت سے بری ہو جائے”۔
بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ "اگر ملک ریاض واپس آنا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملک ریاض کی بڑی عزت ہے، وہ واپس آئیں اور اپنے مقدمات کا قانونی سامنا کریں”۔
: جمہوریت کا درس دینے والے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ جن جمہوریت پسند ممالک سے ہم منی لانڈرنگ کے مقدمات پر معلومات مانگتے ہیں وہ ہمیں جواب تک نہیں دیتے، ان کے قول و فعل میں زمین و آسمان کا تضاد ہے اور انہوں نے خود لوگوں کو مزید منی لانڈرنگ کی گنجائش دے رکھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ "میں یہاں آپ کے سامنے بے بسی کا اظہار کر رہا ہوں، باہر کے ممالک سے ہمیں کوئی جواب نہیں ملتا”۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ اپنے بچوں کو باہر کے ممالک میں پڑھا رہے ہیں لیکن یہاں پاکستان میں ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ تاہم موجودہ گلف وار (خلیجی جنگ) کی وجہ سے پاکستان سے باہر پیسہ جانا رک چکا ہے اور اب یہ سرمایہ واپس آئے گا۔
گفتگو کے آخر میں ملک کے مجموعی نظام سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ نظریہ ہرگز نہیں ہے کہ ملک کا نظام بیٹھ چکا ہے، بلکہ ملک کو اس وقت چند معاشی و انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے جن پر قابو پایا جا رہا ہے۔
’’موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ہیں، بس میڈیا پر تشہیر نہیں ہو رہی”: چیئرمین نیب

