پیرس :فرانس کے وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقامی میئرز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ملک کے کچھ حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ اُن کے بقول اس اقدام کا مقصد عوام اور کاروباری اداروں کا تحفظ کرنا ہے۔
پیرس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم لیکورنو کا کہنا تھا کہ پیر سے پیرس میں ایک اہم آپریشن شروع ہو رہا ہے جس میں 200 تفتیش کار شامل ہوں گے، یہ تفتیش کار ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کی فوٹیج کا جائزہ لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنے اور بحالی کے لیے فنڈز بھی مختص کرے گی اور یہ رقم ان لوگوں سے وصول کی جائے گی جو ان پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔
لیکورنو نے کہا، ’ایک ایسا قانون لایا جائے گا جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ جن لوگوں نے املاک کو نقصان پہنچایا ہے، انھیں اس کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے۔‘
خیال رہے کہ مہنگائی اور سکولوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف سنیچر کے روز فرانس بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق، جسے ‘تشدد میں اضافہ’ قرار دیا جا رہا ہے، اس دوران کم از کم ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
پیرس میں شام تک انسدادِ فسادات پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
دارالحکومت پیرس اور دیگر علاقوں میں متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ لیموج میں واقع ٹاؤن ہال میں لگنے والی شدید آگ کے باعث عمارت کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے دوران ٹاؤن ہالز اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔
فرانس، مئیرز کو کرفیو کے نفاذ کا اختیار مل گیا، متاثرہ علاقوں کے نقصان کا ازالہ تشدد کرنیوالے افراد کرینگے ، وزیراعظم

