لاہور : صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) لاہور میں ایک مشترکہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کابینہ کے 37 ویں اجلاس کے فیصلے، صوبے کے لیے 2026 سے 2030 تک کے 3 سالہ معاشی و برآمداتی پروگرام اور خیبر پختونخوا (KPK) کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
سیالکوٹ کے فٹبال، کٹلری، لیدر، فین انڈسٹری، بلو پوٹری اور پنک سالٹ جیسی تمام مقامی مصنوعات پر اب صرف "Made in Pakistan" کی پہچان ہو گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق ہماری مصنوعات کو دنیا بھر میں اپنے ملک کے نام سے متعارف کروانے کے لیے عملی اقدامات اور ٹیسٹنگ لیبز کا قیام یقینی بنایا جا رہا ہے۔
— PMLN (@pmln_org) October 19, 2026
پریس کانفرنس کے آغاز میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے فوج کے جوانوں اور افسران کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔
پنجاب کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار جامِ شہادت نوش کرنے والے فوجی جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور دعائے خیر کی گئی۔ عوامی فلاح کے تحت پنجاب حکومت نے 2026 سے 2029 کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تین سالہ روڈ میپ "پیوٹ" ترتیب دیا ہے جس میں انڈسٹریل انفراسٹرکچر، کلسٹر ڈویلپمنٹ، زراعت، لائیو اسٹاک اور سولر انسٹالیشن کے منصوبے شامل ہیں جن سے تقریباً 2000 بلین روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
— PMLN (@pmln_org) October 19, 2026
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ سینئر وزیر نے کابینہ کو 2026 سے 2030 تک کے تین سالہ پیوٹ (PIVOT) پروگرام کی بریفنگ دی ہے:
اس زراعت و لائیو اسٹاک اور صنعتی پروجیکٹ کے ذریعے 2000 بلین روپے کی سرمایہ کاری اور ڈھائی لاکھ (1.5 لاکھ سے زائد) سے زیادہ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ 46 سے زیادہ بین الاقوامی و مقامی سرمایہ کار اس میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
‘میڈ ان پاکستان’ برانڈنگ: ہمارا فٹ بال دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے لیکن دیگر ممالک کا نام لگتا ہے۔ اب ہمارا پنک سالٹ (Pink Salt)، کٹلری اور پنکھے ‘میڈ ان پاکستان’ کی برانڈنگ اور پاکستان میں لیبارٹری ٹیسٹنگ کے بعد عالمی منڈی میں جائیں گے۔
روزگار کے لیے نوجوانوں کو پی ایس ڈی ایف (PSDF) کے ذریعے سعودی عرب اور عالمی فوڈ چینز میں ملازمتوں کے لیے تیار کر کے بھیجا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق، محدود رسائی کے چیلنج کو ختم کرتے ہوئے پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ میں 1100 ای-بسز کا نیٹ ورک فعال کر دیا گیا ہے۔صرف 20 روپے کرایے کے ساتھ اسکول کے بچوں، طلبہ، خواتین، بزرگوں اور اسپیشل افراد کے لیے سفر بالکل مفت ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ عوام کو ایک باوقار، معیاری اور جدید ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔
— PMLN (@pmln_org) October 19, 2026
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 2 سالوں میں 30 ہزار سے زیادہ ٹریکٹرز دیے ہیں جس پر 9.5 ارب روپے کی سبسڈی پنجاب حکومت ادا کرے گی۔ تمام اضلاع میں پارک اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (PHA) قائم کی جا رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان کو 6 اور آزاد کشمیر کو 15 ‘کلینک آن ویلز’ گاڑیاں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے صوبے میں سفری سہولیات اور ٹرانسپورٹ میں اصلاحات کے بارے میں بتایا:
پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ کے لیے 1100 ای بسیں اور تحصیلوں کے لیے 1500 بسیں دینے جا رہے ہیں۔ 5 سال میں 3 ہزار جدید ای بسیں پنجاب میں چلتی نظر آئیں گی۔ جس سے کرایہ محض 20 روپے رکھا گیا ہے اور سموگ و فضائی آلودگی میں بھی واضح کمی آئے گی۔
لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے بعد مارچ 2027 میں وزیراعلیٰ پنجاب گوجرانوالہ میں میٹرو سسٹم کا افتتاح کریں گی۔

