ویب ڈیسک
ہریانہ سے سرینگر جانے والی ایک لگژری سلیپر بس کے ڈرائیور نے الزام عائد کیا ہے کہ کرنال میں رات کے کھانے کے لیے رکنے کے دوران انہیں دہشت گرد کہا گیا اور جموں و کشمیر کے نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو اس روٹ پر چلنے نہ دینے کی دھمکی دی گئی۔ اس دوران تنازع شدت اختیار کرگیا اور مبینہ طور پر بس پر پتھراؤ کیا گیا، جس میں دو افراد زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا۔ کروکشیتر کے قریب بس پر پتھراؤ کیے جانے سے اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے دفتر نے یہ معاملہ ہریانہ حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے، جس نے قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔پولیس کے مطابق ہریانہ کے ضلع کرنال میں پیش آئے اس واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو بس پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ واقعے میں ایک مسافر اور ڈھابے کا ایک ملازم زخمی ہوئے ہیں۔رام بن پہنچنے پر بس ڈرائیور وقار چودھری نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ واقعہ نیلوکھیڑی میں ایک ہوٹل کے باہر پیش آیا، جہاں انہوں نے 35 مسافروں کو لے جانے والی بس کو کھانے کے لیے روکا تھا۔وقار چودھری نے بتایا، یہ بس سری نگر دہلی روٹ پر چلتی ہے۔ میں نے کھانے کے لیے بس ہوٹل میں کھڑی کی تھی۔ وہاں پارکنگ میں پہلے سے کچھ لوگ موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے دور سے ہی مجھے آواز دے کر گاڑی ہٹانے کو کہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ شخص قریب آیا اور انہیں دہشت گرد کہتے ہوئے دوبارہ بس ہٹانے کا حکم دیا۔ اس نے بس کی نمبر پلیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی اور پھر چابی سے کھڑکی پر وار کرکے شیشہ توڑ دیا۔ڈرائیور کے مطابق اس کے بعد مذکورہ شخص بس میں داخل ہوا اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے رجسٹریشن نمبر والی گاڑیوں کو اس روٹ پر چلنے نہیں دیں گے۔چودھری نے بتایا کہ واقعے کے وقت آدھے سے زیادہ مسافر بس سے اتر چکے تھے، جبکہ چھ سے سات مسافر اندر موجود تھے۔انہوں نے الزام لگایا، اس شخص نے مسافروں کے سامنے مجھے گالیاں دیں اور بس سے باہر گھسیٹنے کی کوشش کی۔ ہوٹل کے عملے نے مداخلت کی اور میری حفاظت کے لیے مجھے اندر لے گئے۔ اسی دوران اس شخص نے اپنے کچھ ساتھیوں کو فون کیا، جو موٹر سائیکلوں پر وہاں پہنچے۔ ان میں سے تین یا چار افراد اس واقعے میں ملوث تھے اور انہوں نے بس میں توڑ پھوڑ کی۔ڈرائیور نے دعویٰ کیا کہ حملے میں دو مسافر بھی زخمی ہوئے۔پولیس سے خاطر خواہ مدد نہ ملنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ ایسے واقعات کی وجہ سے کشمیری ٹرانسپورٹروں کو ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے.انہوں نے کہا ایسے واقعات اکثر ہوتے ہیں۔ صرف کشمیری ہونے کی وجہ سے لوگ ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں اور یہاں سے چلے جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہماری کوئی نہیں سنتا اور ہمیں انصاف نہیں ملتا۔مسافروں نے بھی بتایا کہ وہ ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے، جب انہوں نے ڈرائیور پر حملے اور بس میں توڑ پھوڑ کا واقعہ دیکھا۔سری نگر کے رہائشی عبداللہ نامی ایک مسافر نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور بظاہر نشے میں تھا اور لوگوں کی جانب سے روکنے کی کوشش کے باوجود بار بار واپس آ رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے۔ تاہم عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ انہیں بھی گرفتار کرکے پولیس لاک اَپ میں مارا پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں اسپتال میں علاج کرانا پڑا۔مسافر نے دعویٰ کیا کہ گاڑی پر حملہ کرنے والے افراد کو ایک ایسے شخص کی مداخلت کے بعد رہا کردیا گیا، جس کا تعلق ان سے تھا۔ مبینہ طور پر اس شخص نے دعویٰ کیا کہ ملزمان ایک مقامی گاؤں کے سربراہ کے بیٹے ہیں۔عبداللہ نے مزید الزام لگایا کہ بعد میں پولیس نے ان پر اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور ان کی وردیاں پھاڑنے کا الزام عائد کیا، انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک اپنی چوٹوں سے پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائیں گے اور اس کے بعد باقاعدہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کارروائی کریں گےوقار چودھری اور مسافروں نے سری نگر اور ہریانہ کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں، منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور کشمیری ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کے خلاف اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔بس ڈرائیور کے معاون نے کہا، ہم سری نگر اور ہریانہ کی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو حل کریں۔ اگر ہم نے کوئی غلطی کی ہے، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لیکن صرف کشمیری ہونے کی وجہ سے ہمیں ہراساں نہ کیا جائے، گالیاں نہ دی جائیں اور دہشت گرد قرار نہ دیا جائے۔

