پیرس :فرانس میں پھوٹنے والی احتجاج کی لہر کے دوران صدر ایمانوئیل میکخواں نے عوام کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگامے ہوئے جن کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، مظاہروں میں دکانوں کو لوٹا گیا جبکہ دوسری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
احتجاج کا یہ سلسلہ مہنگائی اور عوامی کو ملنے والی سروسز میں کمی کے خلاف شروع ہوا ہے۔
سنیچر کو شروع ہونے والا احتجاج ہنگاموں میں تبدیل ہوا جس کے دوران تشدد کے واقعات بھی ہوئے۔
مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، عمارتوں پر نعرے لکھے گئے جبکہ سٹی ہال کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’یہ مناظر دیکھ کر ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے، فرانسیسی شہری اپنے ملک کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ان واقعات کا کوئی جواز نہیں، نہ ہی ان کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، آجہم سب شرمندگی اور غصہ محسوس کر رہے ہیں۔‘نہوں نے کہا کہ الٹرا لیفٹ گروپس اور مجرموں نے جو تباہی مچائی، اس کا کوئی جواز نہیں، کوئی وجہ نہیں، کوئی معافی نہیں۔ پھر پولیس، میئرز اور دکانداروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کہا کہ حکومت کل سے ہی متاثرین کی مدد کرے گی۔ تفتیش تیز ہوگی، سزا سخت ہوگی۔ “جو توڑے گا، وہ بھرے گا”
رپورٹس کے مطابق ان ہنگاموں کی وجہ سے میکخواں کے خلاف عوام کی برہمی واضح ہو گئی ہے جبکہ ان کے عہدے کی مدت 2027 میں پوری ہو گی۔
صدر میکخواں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پُرامن احتجاج کرنے والوں کے مطالبات جائز ہیں اور ان کا موازنہ ان لوگوں سے نہیں کرنا چاہیے جو توڑ پھوڑ اور بدامنی پھیلا رہے ہیں۔‘میکرون نے تسلیم کیا کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ یہ جائز غصہ ہے، اور اس کا سبب خلیج فارس کا تنازعہ ہے جس میں فرانس شامل نہیں۔ خود وہ کل خلیج کے ممالک جا رہے ہیں تاکہ ایندھن کی سپلائی یقینی بنا سکیں۔ نوجوانوں کی بے چینی بھی تسلیم کی۔ کہا کہ ان کی آواز سنی جائے گی۔
دائیں بازو کے بعض سیاست دانوں کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے مطالبات کے باوجود فرانسیسی صدر نے اس کا اعلان نہیں کیا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت ضرورت پڑنے پر حکام کو مظاہروں پر پابندی لگانے کا اختیار دے گی تاکہ سرکاری عمارتوں اور مقامی کاروباروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔میکرون نے یاد دلایا کہ صدارتی الیکشن صرف چھ ماہ بعد ہیں۔ اور کہا کہ جو لوگ آج سڑکوں پر گڑبڑ کر کے بحث چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ دراصل جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ فرانس کی بحث اخباروں، ٹی وی اسٹوڈیوز اور پرامن ملاقاتوں میں ہونی چاہیے، نہ کہ آگ اور توڑ پھوڑ کے ساتھ۔
اتوار لو خبر رساں اداروں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ہنگاموں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن کے نتیجے میں دارالحکومت پیرس سمیت کئی شہروں کی گلیاں کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔
پیرس کے ڈپٹی میئر ایمانوئیل گریگوائر کے مطابق شہر کی کئی سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جہاں نقاب پوش نوجوانوں کے گروہوں نے کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹ لیا۔
فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے تشدد کی اس ’انتہائی شدت‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق مہنگائی کے خلاف دارالحکومت اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں میں پانچ لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی جبکہ ان مظاہروں کی کال دینے والی بڑی یونین ’سی جی ٹی‘ کا کہنا ہے کہ اس میں آٹھ لاکھ افراد شریک تھے۔
مظاہروں کے دوران صورتحال اس وقت بگڑی جب کچھ شرکا نے پولیس پر پتھراؤ اور آتش بازی کی جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
’’فرانسیسی فرانس کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں?’’ صدر ایمانوئی میکخواں کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

