واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں احتجاج کے دوران ہونے والی بدامنی کا ذمہ دار امیگریشن کو قرار دیتے ہوئے ملک پر زور دیا کہ وہ نقل مکانی سے متعلق قوانین مزید سخت کرے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فرانس جل رہا ہے! بالکل مختلف دنیا سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگوں کی آمد، جن کے دلوں میں نفرت ہے، نے اس عظیم ملک کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اپنی سرحدیں بند کریں اور صورت حال پر قابو پائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
President Trump says, "France is burning! The immigration of people from an entirely different world, people with hatred in their hearts, has shattered that once great country." 🇫🇷
France issued 384,000 residence permits last year alone, on top of decades of large-scale immigration that successive French governments have acknowledged straining public services, housing, and schools — the very things the protesters are now furious about. Overcrowded classrooms with 35 students and not enough chairs do not happen in a vacuum; they happen when population growth outpaces infrastructure investment, and immigration is one of the largest drivers of that growth in French urban areas.
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) October 18, 2026
فرانس میں ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد اتوار کو بھی صورت حال کشیدہ رہی۔ احتجاج کے دوران ایک تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی جبکہ 1,800 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان واقعات نے صدر ایمانوئل میکرون پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جن کی جگہ لینے کے لیے چھ ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہفتے کو کیے گئے اسی نوعیت کے تبصروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی لبرلز نے تنوع اور ہمدردی کے نام پر فرانس اور دیگر ممالک میں تیسری دنیا کے لوگوں کو آباد کیا۔ انہوں نے معاشرے میں انضمام اور ثقافتی مطابقت سے متعلق بنیادی سوالات کو نظرانداز کیا۔ انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ اس کے نتائج یہی ہوں گے، لیکن انہوں نے توجہ نہیں دی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ حیرت انگیز لوگوں کا خوبصورت ملک فرانس مزید تاریخی عمارتوں کو آگ لگنے سے پہلے اس پاگل پن کو روک دے۔
2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ امیدوار سمجھے جانے والے وینس نے ان واقعات کو 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے بھی جوڑا، جن میں کانگریس کی نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا۔ ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا رہی۔

