پاکپتن(رپورٹ:اکرام حسین شاہ )
پاکپتن کے نواحی علاقے موہر سنگھ میں گھر کی تعمیر کے لیے کنویں سے ریت نکالتے ہوئے مٹی تلے دب جانے والے 18 سالہ نوجوان رمضان ولد ریاض کی لاش 22 گھنٹے طویل کٹھن ریسکیو آپریشن کے بعد باہر نکال لی گئی۔ اس سے قبل حادثے میں جاں بحق ہونے والے 35 سالہ منیر ولد اصغر کی لاش بھی رات گئے ریسکیو کر لی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران ریتلی مٹی کے بار بار سرکنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپریشن میں 40 فٹ سے زائد گہری کھدائی کی گئی جبکہ چار کرینوں سمیت بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر پاکپتن آصف رضا نے دونوں نوجوانوں کے المناک جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر عارفوالا ثوبیہ فلک کی نگرانی میں آپریشن کامیابی سے مکمل کرنے پر ریسکیو 1122، محکمہ ریونیو، ستھرا پنجاب ایجنسی، پیرا فورس، پنجاب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ کنوؤں سے ریت نکالنے اور کھدائی جیسے خطرناک کاموں کے دوران تمام قانونی تقاضوں اور حفاظتی انتظامات کو لازمی یقینی بنایا جائے۔ غیر محفوظ طریقے سے ریت نکالنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ کسی بھی وقت قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔


