نیویارک :اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا آئندہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔
اگرچہ اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا طریقۂ کار تاحال نافذ نہیں ہو سکا، تاہم اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل خورخے موریرا دا سلوا نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد یہ نظام 7 سے 10 روز میں فعال کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے بینکاک میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر، روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ چند ہفتوں میں معاہدے تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے، ورنہ ہم کاشت کے موسم سے محروم ہو جائیں گے۔‘
روئٹرز کے سوالات کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی ایرانی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔‘
وائٹ ہاؤس اور بینکاک میں ایرانی سفارت خانے نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ کل عالمی یومِ خوراک منایا جائے گا۔
آبنائے ہرمز چند ہفتوں میں نہ کھلی تو عالمی قحط کا خدشہ، اقوام متحدہ کی وارننگ

