کٹھمنڈو: نیپال کے وسطی ضلع گورکھا میں واقع دریائے بوڑھی گنڈکی میں اچانک آنے والے خوفناک سیلابی ریلے نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ تیز رفتار سیلابی پانی اپنے ساتھ متعدد مکانات، کئی معلق پل اور پن بجلی (Hydroelectric) کے ایک اہم منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہا کر لے گیا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام اور نیپالی فوج کے مطابق متاثرہ علاقوں سے اب تک 9 غیر ملکی شہریوں سمیت 95 افراد کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ 5 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔سو سے زائد مکانات تباہ، سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے۔نیپال کی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس ناگہانی آفت سے 200 سے زائد گھر متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات مکمل طور پر پانی میں بہہ گئے۔650 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے ہیں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ اور بلند مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
🇳🇵🌊 Flash flood on Nepal’s Budhi Gandaki sweeps away dozens of homes and bridges in Gorkha; four to ten people reported missing
A flash flood carrying mud and debris hit the Budhi Gandaki River in northern Gorkha district around 4 a.m. on Oct. 11. Local officials estimate 35 to 40 houses were swept away in Jagat Bagar, Salleri and Ghattikhola in Chumnubri Rural Municipality. The Soti Khola bridge near Arughat was completely washed away, and a 22-meter section of the Arughat bridge linking Gorkha and Dhading was destroyed, according to Nepal’s Department of Roads. Radio Nepal, citing an assistant chief district officer, reported six bridges swept away, two motorable and four suspension; other outlets count fewer. Parts of a hydropower project under construction in Salleri were also destroyed. Six people were airlifted from landslide-threatened Jagat village, and residents of Machhakhola, Soti, Arkhet and Arughat were told to move to higher ground. The river remains above the danger level. Reported by Kathmandu Post, Himalayan Times, OnlineKhabar and Radio Nepal.
Reports vary: at least ten missing per Radio Nepal, five per the Kathmandu Post, four per other outlets. I found no confirmed deaths. Claims of around 150 flooded homes downstream in Arughat are unverified.
Preliminary reports point to a landslide above Siuribas; residents suspect the Syar stream, a tributary of the Budhi Gandaki, may have been blocked. This is not confirmed.
The flood comes weeks after floods and landslides in August killed at least 1,455 people, with 5,285 missing as of Oct. 5, according to Reuters. A separate avalanche has left 14 Nepalis missing on Himlung.
A river that fluctuates above danger level, damaged bridges and a possible landslide dam make the next hours as dangerous as the first. What to watch: the final missing count, whether the river keeps rising, evacuation of downstream villages, and the cause of the surge.
Sources: Kathmandu Post; Himalayan Times; OnlineKhabar; Radio Nepal; The Statesman; Reuters (via Daijiworld).
— 🔥🗞The Informant (@theinformant_x) October 11, 2026
متعدد معلق پلوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے کئی پہاڑی بستیوں کا زمین سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، جہاں پہنچنے کے لیے فضائی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پھنسے ہوئے افراد کی تلاش اور راشن کی فراہمی جاری ہے۔چند گھنٹوں میں دریا کا رخ اور سطح غیر معمولی حد تک بلندحکام کے مطابق ایک مقام پر دریا میں پانی کی سطح محض چند گھنٹوں کے اندر دو میٹر سے چھلانگ لگا کر ساڑھے آٹھ میٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی پانی کی سطح ماپنے والا ہائیڈرو لوجیکل اسٹیشن بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا جس کی وجہ سے ڈیٹا کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بالائی پہاڑی سلسلے میں زمینی تودہ (Landslide) گرنے سے ندی کا راستہ عارضی طور پر بلاک ہوا، جس کے بعد رکاوٹ ٹوٹنے سے یکایک تباہ کن ریلہ نیچے کی جانب آیا۔ بعض مقامی شہریوں نے بالائی علاقے میں گلیشیئر کا تودہ گرنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔نیپال ابھی رواں برس اگست میں آنے والے ان تباہ کن سیلابوں کے زخموں سے سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا جن میں 1400 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے کہ اس نئی آفت نے ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔بین الاقوامی امدادی تنظیموں بشمول ‘سیو دی چلڈرن’ نے متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور ناگہانی آفات کے خطرات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

