جدید ایوی ایشن انڈسٹری میں ٹیکنالوجی ایک بار پھر ایک بڑے انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی معروف ایرو اسپیس کمپنیاں اور تحقیقی ادارے ایسے مسافر طیارے متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنی (Mach 2) رفتار سے پرواز کریں گے اور بین الاقوامی سفر کے وقت میں حیرت انگیز طور پر 70 فیصد تک کمی لائیں گے۔یہ جدید طیارے آواز کی رفتار (تقریباً 1,235 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے دگنی رفتار، یعنی لگ بھگ 2,400 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ جو طویل فضائی سفر روایتی طیاروں کے ذریعے 10 سے 12 گھنٹے میں طے ہوتے ہیں، اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ محض 3 سے 4 گھنٹے میں طے ہو سکیں گے۔طیاروں میں جدید ترین ایروڈائنامکس، ہلکے وزن والے کمپوزٹ میٹریلز اور جدید ایویونکس کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ طویل فاصلے کا سفر انتہائی محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکے۔اس پرجوش منصوبے کا مقصد دنیا کے کونے کونے کو قریب تر لانا ہے۔ کاروباری شخصیات، سیاحوں اور طویل سفر کرنے والے مسافروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی وقت کے ضیاع کو روکے گی اور عالمی تجارت و سیاحت کے شعبوں میں ایک نیا باب رقم کرے گی۔اگرچہ یہ منصوبہ نہایت دلکش ہے، تاہم اس کی راہ میں کچھ تکنیکی اور ماحولیاتی چیلنجز بھی حائل ہیں:آواز کی دیوار توڑنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زوردار آواز کو کم کرنے یا ختم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا ہے۔ ہوا بازی کے شعبے کو ماحول دوست بنانے کے لیے پائیدار ہوا باز ایندھن (Sustainable Aviation Fuel – SAF) اور کم کاربن اخراج والے انجنوں کی ترقی پر کام جاری ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق آگے بڑھتے ہیں، تو آنے والے چند برسوں میں مسافروں کو ایک نئی اور تیز رفتار فضائی سفری حقیقت کا سامنا ہوگا۔
آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

