ماسکو / ارکتسک:روس کے انتہائی سرد خطے ایسٹرن سائبیریا کے شہر ارکتسک میں رونما ہونے والے ایک پراسرار اور خوفناک واقعے نے عالمی سطح پر بائیوسیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس ہولناک واقعے نے دنیا کو کورونا وائرس کے اس دور کی یاد تازہ کرا دی ہے جب ووہان کی خفیہ لیبارٹری سے وائرس کے اخراج نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ارکتسک کے ‘اینٹی پلگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ’ میں کام کرنے والی 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن داریا شیپیلووا (Daria Shepilova) پراسرار طور پر ہلاک ہو گئی ہیں۔ داریا اس حساس لیبارٹری میں طاعون جیسی جان لیوا بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا ‘یرسینیا پیسٹس’ (Yersinia pestis) پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا حصہ تھیں۔
مقامی رپورٹس کے مطابق 25 ستمبر کو لیبارٹری میں کام کے دوران مبینہ طور پر طاعون کے بیکٹیریا سے بھری ایک ٹیوب ٹوٹ گئی تھی۔ اس حادثے کے چند دن بعد ہی داریا شدید نمونیا کا شکار ہو گئیں، جن کی حالت اتنی تیزی سے بگڑی کہ انہیں فوری طور پر وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور 2 اکتوبر کو دم توڑ گئیں۔
اس المناک واقعے کے بعد روسی حکام میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور احتیاطی تدبیر کے طور پر تقریباً 197 افراد کو طبی نگرانی میں لے لیا گیا ہے جبکہ کئی افراد کو قرنطینہ کر کے ہسپتالوں میں پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
عالمی ماہرینِ صحت اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ وہی جان لیوا بیکٹیریا ہے جو ‘بلیک ڈیتھ’ (طاعون) جیسی خطرناک وبا کا سبب بنتا ہے—وہی وبا جس نے قرونِ وسطیٰ کے دور میں یورپ کی ایک تہائی سے لے کر نصف آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
جس طرح ووہان لیبارٹری سے کورونا وائرس کے لیک ہونے کے خدشات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اسی طرح سائبیریا کی اس لیبارٹری میں ہونے والی اس چونکا دینے والی ہلاکت نے ایک بار پھر بائیولوجیکل لیبز کے اندرونی حفاظتی اقدامات اور غفلت پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
سائیبریا: لیبارٹری سے مہلک مرض کے جراثیم لیک،ٹیکنیشن ہلاک ، کیا ایک اور "کورونا” جنم لینے والا ہے?

