واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر کے شاہی خاندان سے مانگ کر حاصل کیے گئے اس پرتعیش جمبو جیٹ کا استعمال مشکوک حالات میں عارضی طور پر ترک کر دیا گیا ہے، اور گزشتہ دو ہفتوں سے صدر نے ایک بار پھر پرانے اور روایتی نیلے اور سفید رنگ کے ایئر فورس 747 طیارے میں سفر شروع کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے حال ہی میں اس نئے قطری طیارے کے اندرونی شاہانہ حصوں کو فخریہ انداز میں صحافیوں کو دکھایا تھا، تاہم وسط ستمبر کے بعد سے انہوں نے اچانک اس طیارے پر سفر کرنا کیوں چھوڑا، اس بارے میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ قطری طیارہ آخری بار 16 ستمبر کو شمالی کیرولینا میں ایک ریلی میں شرکت کے لیے استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد یو این جنرل اسمبلی، مختلف ریاستوں میں فٹبال اور گولف کے دوروں اور سیاسی جلسوں کے لیے صدر نے ہمیشہ 35 سال پرانا دفاعی آلات سے لیس طیارہ ہی استعمال کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قطری طیارے کو چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ اس میں خودکار دفاعی صلاحیتوں (مشن ڈیفنس سسٹمز) کا نہ ہونا ہے۔ ایئر فورس کے روایتی 747 طیاروں میں انجن پوڈز اور دم کے قریب میزائلوں کا پتہ لگانے اور انفرا ریڈ لیزر پلسز کے ذریعے انہیں ناکارہ بنانے کا خصوصی نظام موجود ہوتا ہے، جو قطری جیٹ میں غائب ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ کے طیاروں کے انتخاب اور ان کی مبینہ ماہرانہ مداخلت نے امریکی ٹیکس دہندگان کو پہلے ہی اربوں ڈالر کے مالی بوجھ میں ڈال دیا ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کے اصرار پر بوئنگ کے ساتھ کیے گئے سستے معاہدے بالآخر اربوں ڈالر کے خسارے اور تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ قطری طیارے میں کمیونیکیشن اور دیگر سکیورٹی آلات کی تنصیب پر بھی کروڑوں ڈالر کا اضافی خرچ آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کی خواہش ہے کہ صدارت کے بعد اس قطری طیارے کو ان کی صدارتی لائبریری کا حصہ بنایا جائے، تاہم ماہرین قانون نے اس کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر سے تحفے میں لیا گیا مہنگا ترین طیارہ اچانک کیوں چھوڑ دیا؟

