ممبئی:بگ بی اور ان کے پرستاروں میں بلٹ پروف شیشے کی دیوار حائل،1982 سے جاری روایت کیا قائم رہ سکے گی،
امیتابھ بچن اور ان کے مداحوں کے درمیان محبت کا رشتہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ ممبئی میں واقع ان کی رہائش گاہ ’جلسہ‘ کے باہر ہر اتوار کو جمع ہونے والے سینکڑوں مداح اس بات کا ثبوت ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ سپر سٹار کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
لیکن گذشتہ روز یکم نومبر 2026 کو امیتابھ بچن اپنے مداحوں کے سامنے تو آئے مگر پہلی مرتبہ ان کے اور چاہنے والوں کے درمیان بلٹ پروف شیشے کی ایک حفاظتی دیوار حائل تھی۔
Amitabh Bachchan meets his fans every Sunday outside his bungalow, but after the firing incident involving Tiger Shroff, Big B seems to have become quite nervous.
Now, he is meeting his fans from inside a protective glass enclosure. 😶 https://t.co/fmCbB7t1FE
— Amit Kumar Sindhi (@AMIT_GUJJU) November 1, 2026
اس غیرمعمولی انتظام کی وجہ چند روز قبل موصول ہونے والی ایک دھمکی آمیز ای میل تھی۔ 23 اکتوبر کو ممبئی کی میئر ریتو تاوڈے کے دفتر کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں میئر کے دفتر کے علاوہ امیتابھ بچن کی رہائش گاہ اور گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
دی ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ای میل میں جلسہ پر 31 اکتوبر سے 27 نومبر کے درمیان حملے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ممبئی پولیس اور دیگر حفاظتی ادارے چوکس ہوگئے اور امیتابھ کی رہائش گاہ کے اطراف نگرانی بڑھا دی گئی۔
پولیس نے دھمکی آمیز پیغام کی صداقت جانچنے اور اسے بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ حال ہی میں ٹائیگر شروف پر ہونے والا حملہ بھی ہے جس کے بعد کسی بھی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
امیتابھ بچن کا یہ اتوار کا معمول محض مشہور اداکار کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع نہیں بلکہ اس کے پس پشت جذباتی تاریخ بھی ہے۔ اس روایت کا آغاز 1982 میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے اُس خوفناک حادثے کے بعد ہوا تھا جس میں امیتابھ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی اور ملک بھر میں ان کے چاہنے والوں نے ان کی صحتیابی کے لیے دعائیں کی تھیں۔
24 ستمبر 1982 کو جب وہ ہسپتال سے صحتیاب ہوکر گھر واپس آئے تو مداحوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جمع ہوگئی۔ اس محبت سے متاثر ہوکر انہوں نے ہر اتوار اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یوں ’سنڈے درشن‘ ایک روایت بن گیا جو وقت کے ساتھ امیتابھ کی شخصیت کا اہم حصہ بن گئی۔

