کابل: افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور مختلف صوبوں میں سکیورٹی، انٹیلی جنس اور انتظامی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کے مطابق ستمبر کے دوران طالبان رجیم کے خلاف 68 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 102 اہلکار ہلاک اور 48 زخمی ہوئے۔ اے یو ایف کے مطابق قندھار، بدخشاں، بغلان، ہلمند، زابل، پکتیا اور مزار شریف میں طالبان کی سکیورٹی، انٹیلی جنس اور انتظامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
مزاحمتی گروپوں کے مطابق اے یو ایف، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (این آئی ایف) کی حالیہ کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 23 اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے، جبکہ متعدد چوکیاں، گاڑیاں اور انٹیلی جنس مراکز بھی متاثر ہوئے۔
این آئی ایف کے مطابق 30 ستمبر کو مزار شریف میں طالبان انٹیلی جنس کے چھٹے ضلعی ہیڈکوارٹر پر راکٹ حملہ کیا گیا، جس میں انٹیلی جنس کے چھٹے ضلع کے نائب سربراہ قاری نصیر احمد فاتح سمیت 5 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوئے۔ جبکہ حملے میں انٹیلی جنس مرکز کی عمارت، آلات اور انفراسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
این آئی ایف کے مطابق 29 ستمبر کو پکتیا میں طالبان کی ایک چیک پوسٹ پر راکٹ حملے میں 7 اہلکار ہلاک، 2 رینجر گاڑیاں تباہ اور چیک پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا۔ 2 اکتوبر کو ہلمند میں طالبان کی سکیورٹی چوکی پر ایک اور راکٹ حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہوئے اور چوکی ناکارہ ہوگئی۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق 30 ستمبر کو بغلان میں طالبان کے خلاف کارروائی میں 3 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
اے یو ایف کے مطابق غور، ہلمند، قندھار اور زابل میں بھی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 29 ستمبر کو غور کے صوبائی دارالحکومت فیروزکوہ میں طالبان گورنر کے دفتر پر حملے میں گورنر کا ایک محافظ ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
گروپ کے مطابق 2 اکتوبر کو لشکرگاہ میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے دفتر پر دستی بم حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوا، جبکہ 30 ستمبر کو قندھار شہر میں طالبان انٹیلی جنس کا ایک اہلکار ہلاک کیا گیا۔
اے یو ایف کے مطابق 2 اکتوبر کو قندھار کے ضلع ارغنداب میں طالبان سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک ہوا، جبکہ یکم اکتوبر کو زابل میں ملا عمر کے مزار کی حفاظت پر مامور طالبان اہلکار بلال کو ہلاک کیا گیا، جو گروپ کے مطابق طالبان کے ابوبکر نیٹ ورک سے وابستہ تھا۔
مزاحمتی گروپوں نے طالبان رجیم کے عسکری اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کا دائرہ وسیع،حملے جاری،ستمبر میں 68 کارروائیاں، 102 اہلکار ہلاک،اے یو ایف

