لاہور:پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے نظامِ حکومت، آئینی عملداری اور عوامی مسائل پر کھل کر کڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہم نے آئین پر کتنا عمل کیا ہے اور کیا جمہوریت کے حقیقی ثمرات نچلی سطح تک عوام کو مل بھی رہے ہیں یا نہیں۔
ملک محمد احمد خان نے آئین کے ابتدائی صفحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے پہلے صفحے پر واضح طور پر درج ہے کہ ایگزیکٹیو اتھارٹی منتخب نمائندوں کے پاس ہونی چاہیے، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اصل اختیارات واقعی منتخب وزیراعظم یا گراس روٹ لیول کے عوامی نمائندوں کے پاس ہیں؟ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب گراس روٹ لیول پر بااختیار بلدیاتی نمائندے موجود ہوں تو پھر ڈپٹی کمشنر اور چیف سیکرٹری کا طاقتور وجود کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ عہدے اور موجودہ انتظامی ڈھانچہ دراصل انگریز دور کی یادگار ہیں جو لیفٹیننٹ گورنر کی طرز پر چلائے جا رہے ہیں اور جمہوری روح پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
مقامی حکومتوں کے نظام کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جو لوکل گورنمنٹ سسٹم ہمیں دیا گیا وہ انتہائی مفلوج، لولہ اور لنگڑا نظام ہے، اور دیہاتوں میں بسنے والے عام لوگوں کو آج بھی جمہوریت کے بنیادی ثمرات سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کیا محرکات ہیں کہ آئین میں وفاق اور الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے تو درج ہیں، لیکن اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور لوکل گورنمنٹ پر بات کرنا آج بھی ایک شجرِ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔
عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے ملک میں جاری بجلی کے بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاغذوں میں اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اب بھی آٹھ آٹھ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عوام کے لیے ایک عذاب بنی ہوئی ہے اور عام شہری اس سنگین مسئلے سے روزانہ کی بنیاد پر دوچار ہیں۔

