پشاور / ڈیرہ اسماعیل خان:خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے ممکنہ لانگ مارچ کی تیاریوں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے انتہائی سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں اور کرفیو جیسے اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ حساس اطلاعات اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم شاہراہوں اور علاقوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے دفعہ 144 کے باضابطہ اعلامیے جاری کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے ان ہنگامی اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
جنوبی وزیرستان اپر: بارود سے بھری گاڑی کی مصدقہ اطلاع پر علاقے میں تین روز کے لیے عام نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
جنوبی وزیرستان لوئر: کسی بھی ممکنہ دہشت گردی یا ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے بارود سے لدی گاڑی کے خطرے کے پیش نظر دس روز کے لیے گاڑیوں کی نقل و حرکت معطل رکھی جائے گی۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک: امن و امان کی شدید کشیدہ صورتحال کے باعث ڈی آئی خان میں چار بڑی شاہراہوں پر تین روز کے لیے آمدورفت بند کر دی گئی ہے، جبکہ ٹانک میں بھی سکیورٹی قافلوں اور عام ٹریفک کی حفاظت کے پیش نظر چار اہم شاہراہوں پر نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی لانگ مارچ کی کال اور دہشت گردی کے خطرات کے سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے۔





