سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو)
فلائٹ ریڈار 24 (Flightradar24) پر قطر (دوحہ) سے سیالکوٹ آنے والی پرواز کے پاکستان اور بھارت کی سرحدی حدود کے قریب بار بار دائرے میں گھومنے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
-
ہولڈنگ پیٹرن (Holding Pattern): سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاک بھارت سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے۔ جب ایئرپورٹ پر دید (Visibility) کم ہو (مثلاً شدید دھند یا خراب موسم میں)، یا رن وے پر ٹریفک/تکنیکی وجہ ہو، تو ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) پائلٹ کو محفوظ لینڈنگ کے لیے فضا میں مخصوص "ہولڈنگ زون” میں چکر لگانے کی ہدایت کرتا ہے۔
-
جغرافیائی موقع محل: سیالکوٹ کی فضائی حدود کا ہولڈنگ ایریا بالکل سرحدی پٹی کے پاس بنتا ہے۔ اس لیے جب جہاز ہولڈنگ پیٹرن میں اوول (بیضوی) یا دائرے کی شکل میں موڑ لیتا ہے، تو ریڈار اسکرین پر وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
-
جی پی ایس جیمنگ یا سگنل کا خلل (GPS Spoofing/Jamming): سرحدی اور حساس علاقوں میں سگنل جیمنگ یا ADS-B ٹریکنگ ڈیٹا میں تاخیر کی وجہ سے فلائٹ ٹریکنگ ایپس پر جہاز کی لوکیشن اور راستہ بعض اوقات غیر متوقع یا چکر کاٹتا ہوا ظاہر ہوتا ہے۔
-
ڈائیورشن (Diversion) کی منظوری: اگر سیالکوٹ پر فوری لینڈنگ ممکن نہ ہو تو جہاز فضا میں چکر کاٹتے ہوئے متبادل ایئرپورٹ (مثلاً لاہور یا اسلام آباد) کی طرف ڈائیورٹ ہونے کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایت اور کلیئرنس کا منتظر ہوتا ہے۔


