اسلام آباد :وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی کے واقعات میں 70 فیصد افغانی ملوث پائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان بار ہا یہ الزام لگا چکا ہے کہ شدت پسند پاکستان میں کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سر زمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
طلال چوہدری نے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور دو طرفہ فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے اور دوست ممالک کے ذریعے بھی اپنے خدشات افغان طالبان حکومت تک پہنچاتا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کے بقول پاکستان نے ڈوزیئرز کی فراہمی، مذاکرات اور براہ راست رابطوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے، تاہم سرحد پار سے شدت پسند سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو وسائل اور بجٹ فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم، انھوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا نہیں کیا گیا۔‘
وزیر مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کا محکمہ (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سی ٹی ڈی) آج تک پورے خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر فعال نہیں ہے اور ’بغیر وسائل کے فورسز مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکتیں۔‘
طلال چوہدری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو ’نہ گاڑیاں فراہم کی گئیں، نہ تربیت، نہ سی ٹی ڈی کو مکمل فعال کیا گیا، نہ سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور نہ ہی فارنزک لیبارٹریوں کا انتظام کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں تحصیل کی سطح تک سیف سٹی منصوبے فعال ہو چکے ہیں۔
وزیر مملکت کے مطابق پنجاب میں شدت پسندی کے خاتمے میں سکیورٹی فورسز کو وسائل، قیادت اور اختیارات کی فراہمی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ ’خیبر پختونخوا میں نہ وسائل مہیا کیے گئے اور نہ قیادت فراہم کی گئی۔‘
طلال چوہدری نے کہا کہ قیادت اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اختیارات فراہم کرنا بھی خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم نئے پولیس ایکٹ کے تحت پولیس کے اختیارات بھی واپس لینے کی کوشش کی گئی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں موجود غیر رجسٹرڈ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں شدت پسندی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن صوبائی حکومت کے اختیار میں تھی، تاہم اس حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل اور فنڈز کو خیبر پختونخوا حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
سرحد پار دہشت گردی میں 70 فیصد افغانی ملوث ، پی ٹی آئی تحریک طالبان کی بی ٹیم ہے، وفاقی وزرا

