تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کمالیہ میں ایک غریب ریڑھی بان خاتون پر ایس ایچ او کی طرف سے سرِعام جوتے سے تشدد کرنے کی ویڈیو نے ایک بار پھر ہمارے نظامِ عدل و حکمرانی کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وحشیانہ رویے کا ذمہ دار صرف ایک سب انسپکٹر ہے، یا اس کے پیچھے چھپی وہ پوری زنجیر ہے جو ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دیتی ہے؟
آئی جی پنجاب کے نوٹس لینے اور ایس ڈی پی او کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے سب انسپکٹر عمران غفور کو گرفتار کرنے کا اقدام خوش آئند سہی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ متعلقہ ڈی پی او (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر) اس شرمناک واقعے پر کہاں غائب تھے؟ کیا ضلعی پولیس سربراہ کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ وہ ماتحت عملے کی کڑی مانیٹرنگ کریں؟ اگر آئی جی کے ایکشن سے پہلے نظام حرکت میں نہیں آتا، تو اس کا مطلب ہے کہ نگرانی کا سارا میکانزم مفلوج ہو چکا ہے۔
صرف نچلے درجے کے افسر کو قربانی کا بکرا بنا دینا اس بیماری کا علاج نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نگران افسران کا احتساب ہو۔۔۔ جو ڈی پی اوز یا ایس ڈی پی اوز ایسے عناصر کو فیلڈ میں لگاتے اور ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں، ان کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ سب انسپکٹر اپنی مرضی سے اس عہدے پر بیٹھا تھا، یا اس کی تعیناتی کے پیچھے کسی مقامی سیاسی شخصیت کی سفارش تھی؟ اگر تقرریاں قابلیت کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوں گی، تو پولیس وینٹیلیٹر پر ہی رہے گی۔
جب تک پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کو تحفظ دینے والے ان کے سرپرستوں (چاہے وہ محکمے کے افسران ہوں یا سیاسی مافیا) کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ خواتین پر تشدد پر ‘زیرو ٹالرنس’ کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہوگا جب نظام کی جڑوں میں بیٹھے ان عناصر کا بھی صفایا کیا جائے
کمالیہ کا شرمناک واقعہ: ایس ایچ او گرفتار،،، نگران افسران اور سیاسی پشتیبان کب کٹہرے میں آئیں گے؟



