واشنگٹن / مشرق وسطیٰ:امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی گھیراؤ مزید تنگ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے 50 اور یورپ کے ممالک کو ایک انتہائی سخت الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ عہدیدار جوناتھن برک (Jonathan Burke) نے 50سے زائد ممالک کے اپنے طوفانی دورے کے دوران خطے کے ممالک کو واضح کر دیا ہے کہ انہیں اب امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق جوناتھن برک نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے 50 سے زائد ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے حکام کو وارننگ دی کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے گا، اسے امریکا کے ساتھ تمام تجارتی راستوں سے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے گا۔ برک کا دوٹوک مؤقف تھا کہ "آپ یا تو واشنگٹن کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں یا پھر ایران کے ساتھ۔”۔
اگست میں ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ (Economic Outcast) کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے تہران پر پابندیوں کا شکنجہ مزید کسا ہے، جس کے نتیجے میں عراق سمیت کئی علاقائی شراکت داروں نے ایرانی طیاروں کے لیے اپنے ہوائی اڈے تک بند کر دیے ہیں۔
امریکہ کے اس دباؤ اور خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی وجہ سے تہران کے دیرینہ علاقائی تعلقات تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اومان، جو طویل عرصے سے مغرب اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، وہاں بھی امریکی عہدیدار کے دورے نے واضح پیغام دے دیا ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کا ملک پر گہرا اثر پڑ رہا ہے، تاہم انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم مر جائیں گے لیکن اپنے سر نہیں جھکائیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان دباؤ سے ہمیں گرا لیں گے، لیکن ہم پوری قوت سے ان مشکلات پر قابو پالیں گے۔” امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پچاس سالہ ایرانی کشیدگی اب اپنے انتہائی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ادھر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی معاشی دباؤ تہران کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ترکی، عمان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں روک دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور ترکی کے بعض بینکوں نے ایران کے ساتھ لین دین بھی معطل کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی کو ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا نام دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کے لیے تہران پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہی ہے۔
تاہم بعض ماہرینِ اقتصادیات نے ان پابندیوں کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اثر ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ردعمل پر منحصر ہوگا، جن میں ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار چین بھی شامل ہے۔‘
” ایران یا امریکا “50مشرق وسطیٰ ممالک ایران سے تجارت بند کریں ورنہ امریکی مارکیٹ بند ،امریکا کا دوٹوک الٹی میٹم

