واشنگٹن:امریکا میں رواں برس ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل حکمران ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید گھبراہٹ اور افراتفری پھیل گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے اس اُمید کو بالکل ترک کر دیا ہے کہ انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ جاری جنگ کا کوئی خاتمہ یا صدارتی سطح پر کوئی مثبت حل نکل آئے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور جنگ کی وجہ سے آسمان کو چھوتی مہنگائی نے پارٹی کی انتخابی پوزیشن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
میڈیا نیٹ ورک ’ایم ایس ناؤ‘ (MS NOW) کی پارلیمانی رپورٹر مائیکل شنیل (Mychael Schnell) نے اپنے ایک پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ کانگریس کے اندر اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کی جا رہی ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو نومبر کے انتخابات میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک نام ظاہر نہ کرنے والے ریپبلکن قانون ساز نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ: "ہمیں بری طرح کچلا جانے والا ہے، اب اصل سوال صرف یہ ہے کہ کتنے بڑے پیمانے پر شکست ہوتی ہے۔”
انتخابات سے 30 دن قبل جنگ کا جاری رہنا اور مہنگائی بڑا خطرہ:
انتخابات میں اب صرف ایک ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے، لیکن ایران کے خلاف جاری جنگ کے رکنے یا کسی قسم کے متبادل راستے (Off-ramp) کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس سے قبل ریپبلکنز کو امید تھی کہ ووٹنگ سے پہلے جنگ ختم ہو جائے گی اور پیٹرول و گیس کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی، جس سے ووٹرز کا غصہ کم ہو جاتا۔ تاہم، جنگ کے باعث ایندھن اور اشیائے خورونوش کی بلند قیمتیں ووٹرز کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ کئی ریپبلکن امیدواروں نے صدر ٹرمپ سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے تاکہ وہ اپنی انتخابی پوزیشن کو بچا سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مڈ ٹرم انتخابات کو خود پر ریفرنڈم بنانے کی حکمتِ عملی اب پارٹی کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے کیونکہ ریکارڈ کم ترین عوامی مقبولیت کے حامل صدر کے ساتھ جڑ کر الیکشن لڑنا ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف بنتا جا رہا ہے۔

