تحریر : علامہ عارف حسین واحدی جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اسلام آباد میں آج کل جو صورتِ حال جاری ہے، وہ صرف دارالحکومت کے رہائشیوں کے لیے ایک مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے مجموعی سیاسی رویوں اور قومی ترجیحات کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔ شہر کے مختلف راستوں پر طویل احتجاج، شاہراہوں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی بندش اور مسلسل غیر یقینی صورتِ حال نے شہریوں میں شدید ذہنی اذیت اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اسلام آباد کا عام شہری گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ سڑک کھلی ہوگی یا نہیں، راستے میں کہیں ٹریفک میں پھنس جائے گا یا نہیں، کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیش آئے گی یا نہیں، اور اگر وہ شہر سے باہر گیا تو واپس کیسے آئے گا۔ دوسری طرف جو لوگ اسلام آباد سے باہر سے آ رہے ہیں، وہ بھی اس فکر میں ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے شہر میں داخل ہو سکیں گے یا نہیں۔
زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کسی کو کاروبار کے لیے باہر جانا ہے، کسی کو کام کے سلسلے میں، کسی مریض کو ہسپتال پہنچنا ہے اور کسی کو ہسپتال سے علاج کے بعد واپس لانا ہے۔ سڑکوں کی بندش ایک انتہائی حساس مسئلہ بن چکی ہے۔ شہریوں کی زندگی، چاہے وہ سیاسی اختلاف، احتجاج یا محاذ آرائی سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے احتجاج سمیت انسانی زندگی اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کو پاکستان کے آئین کے تحت اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ پرامن احتجاج ایک قانونی اور جمہوری حق ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافی آوازوں کو دبانا یا نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ لیکن عوام کے حقوق بھی اس احتجاج سے وابستہ ہیں۔ احتجاج کا حق اس وقت مکمل طور پر جائز نہیں رہتا جب وہ عام شہریوں کی نقل و حرکت روک دے، مریضوں کو ہسپتال پہنچنے سے روکے، کاروبار اور روزگار کو متاثر کرے اور عوام میں خوف و بے چینی پیدا کرے۔
ہماری رائے میں احتجاج کرنے والی سیاسی قوتوں کو اپنے احتجاج کو پرامن اور منظم رکھنا چاہیے، حساس علاقوں سے گریز کرنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو سڑک کے کم از کم ایک حصے کو ٹریفک کے لیے کھلا رکھنے کے انتظامات کرنے چاہئیں۔ اس طرح سیاسی مطالبات بھی پیش کیے جا سکتے ہیں اور عام شہریوں کو بھی تحفظ دیا جا سکتا ہے۔
لیکن ذمہ داری صرف اپوزیشن کی نہیں بلکہ حکومت کی بھی زیادہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مظاہرین کے مطالبات اور تحفظات سنے، ان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے اور سیاسی کشیدگی کو طاقت اور تصادم کے بجائے مذاکرات کی میز پر منتقل کرے۔ سیاسی مکالمہ، طاقت کے استعمال اور محاذ آرائی کے بجائے، طویل المدتی حل کی طرف لے جانے والا واحد راستہ ہے۔
پاکستان پہلے ہی کئی سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان کے مسائل اور دہشت گردی کے چیلنجز ہم سے قومی توانائی کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے ان مسائل سے نمٹنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات قیمتی انسانی جانیں لے رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں کی صورتِ حال بھی حساس ہے اور پورے خطے اور عالمی سطح پر توانائی، قیمتوں اور معاشی دباؤ نے بھی پاکستانی عوام کو متاثر کیا ہے۔
ایسے حالات میں اگر ہماری قومی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے میں صرف ہوتی رہیں تو اس کا نقصان عوام کو ہوگا۔
ہم ماضی میں فرقہ واریت کے تباہ کن اثرات دیکھ چکے ہیں۔ فرقہ واریت نے معاشرے کو تقسیم کیا، باہمی اعتماد کو نقصان پہنچایا اور قومی وحدت کو کمزور کیا۔ آج ہمیں ایک نئی قسم کی تقسیم سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی اختلاف اس حد تک بڑھ جائے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے، ہر مسئلے کو تنازع بنا دیا جائے اور سیاسی مخالفین کو دشمن سمجھا جانے لگے تو یہ صورتِ حال ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کی علامت ہے، لیکن سیاسی دشمنی جمہوریت کی روح نہیں ہے۔
سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست دراصل عوام کی خدمت، ریاست کو مضبوط بنانے، ملک کو ترقی کی طرف لے جانے اور شہریوں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ حقیقی سیاست دان مشکل حالات میں بھی اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔
سیاسی معاملات میں لچک کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک سیاسی رہنما جو اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے دوسری جانب کی بات سننے، مذاکرات کرنے اور قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہی سیاسی عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اگر دونوں فریق اپنی اپنی بات پر اصرار کرتے رہیں اور راستہ نکالنے کے لیے آمادہ نہ ہوں تو سیاسی کشیدگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ حکومت کو کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہیے، جبکہ اپوزیشن کو بھی اپنے سیاسی احتجاج کو اس انداز میں منظم کرنا چاہیے جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر نہ ہو۔
ہم یہ تجویز بھی دیتے ہیں کہ حکومت تمام جماعتوں کی ایک کُل جماعتی کانفرنس بلائے اور اعتماد کی فضا میں تمام اہم سیاسی جماعتوں کو شریک کرے۔ اس کانفرنس میں صرف موجودہ سیاسی کشیدگی ہی نہیں بلکہ ملک کو درپیش معاشی، سلامتی، دہشت گردی، خارجہ پالیسی اور علاقائی مسائل پر بھی سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ہونی چاہیے۔ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی بات سننے کا ہے۔
مذہبی اور سیاسی قوتوں، اسکالرز، دانشوروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو بھی ملک میں امن، اتحاد اور سیاسی مفاہمت کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان کے مثبت اور معتدل عناصر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تو موجودہ کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
موجودہ حالات میں ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی کشمکش سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہماری سرحدوں پر جو چیلنجز موجود ہیں، ان کے پیشِ نظر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خطے میں موجود کوئی مخالف قوت ہماری کسی اندرونی کمزوری سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس لیے قومی اتحاد اور اندرونی سیاسی استحکام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا وجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ پاکستان رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں وجود میں آیا۔ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے قیام کے لیے قربانیاں دیں۔ لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ اس ملک کو نفرت، انتشار اور افراتفری کے بجائے امن، استحکام، ترقی، باہمی احترام اور باہمی اخوت کی طرف لے کر جائیں۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اختلافات ہوں گے مگر دشمنی نہیں؛ احتجاج ہوگا مگر عوام کی زندگیاں مفلوج نہیں ہوں گی؛ سیاسی مقابلہ ہوگا مگر قومی مفاد قربان نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اپوزیشن کے تحفظات سنے گی اور اپوزیشن بھی حکومت کے فیصلوں میں عوامی مفاد کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کرے گی۔ اختلافات کو مذاکرات کا ذریعہ بنایا جائے، جنگ کا نہیں۔ آج پاکستان کو سیاسی تصادم نہیں بلکہ سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔
مفاہمت کی ضرورت ہے، تصادم کی نہیں۔
ضرورت قومی اتحاد کی ہے، تقسیم کی نہیں۔
اگر حکومت اور اپوزیشن خلوص، تحمل اور سیاسی بصیرت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان اور دیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ عوام کو سڑکوں کی بندش کی اذیت سے نجات دلائیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنائیں، سیاسی اختلافات کو ایک دوسرے کے خلاف قومی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔
حکومت کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مذہبی قوتوں کو بھی آگے آنا چاہیے اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ملک میں امن، اتحاد اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ وقت کا قومی تقاضا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ہماری ذمہ داری بھی۔


