واشنگٹن: ایرانی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہنگامہ خیز صورتحال اور بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی صدارتی ایلچی اور اہم سفارتی شخصیت سفیر ٹام بارک (Tom Barrack) سے معروف صحافی ماریو نوافل نے خصوصی انٹرویو کیا ہے جس میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے ہیں ۔
ٹام بارک کا کہنا ہے کہ ماضی میں واشنگٹن خطے کا حتمی سیکیورٹی گارنٹر (Security Guarantor) رہا ہے—جو تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانے، فوجی اڈے قائم رکھنے اور تنازعات میں براہِ راست کود پڑنے کو اپنا فرض سمجھتا تھا—مگر اب یہ پرانا دور ختم ہو رہا ہے۔ سفیر ٹام بارک کے مطابق، امریکہ اب خطے کے ہر مسئلے کا خود ٹھیکیدار بننے کے بجائے ایک "ریفری” (Referee) کا کردار ادا کرنے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
🇺🇸🇮🇷 EXCLUSIVE: TRUMP’S SPECIAL PRESIDENTIAL ENVOY REVEALS U.S. STRATEGY POST IRAN WAR
I’ve been very critical of the Iran war, which I think went terribly wrong for Trump. The region is scrambling for a new security infrastructure, Iran wants U.S. bases out, the Houthis and… https://t.co/KyURUdeRsp pic.twitter.com/stBtUcAwoh
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 21, 2026
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا اب اتنی طاقتور پوزیشن میں ضرور رہے گا کہ ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکے، لیکن اس کا بنیادی مقصد علاقائی طاقتوں کو خود مذاکرات کی میز پر لانا اور ان کی اپنی سیکیورٹی کی ذمے داری انہیں خود سونپنا ہے۔ اس نئی پالیسی کا سب سے بڑا امتحان آبنائے ہرمز (Hormuz) ہے، تاہم ٹام بارک کا ماننا ہے کہ اس تنازع کو ایک اور بڑی جنگ کا بہانہ بنانے کے بجائے تجارتی میکانزم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ خالصتاً تجارتی نوعیت کے مسائل ہیں، جن پر امریکا اپنی سیاسی پونجی، اپنے بچوں کی زندگیاں اور ملک کا وقار داؤ پر نہیں لگا سکتا۔”
ماریو نوافل نے اپنے تجزیئے میں کہ کہ سفیر ٹام بارک کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کو مکمل طور پر خیرباد نہیں کہہ رہا، بلکہ خطے میں اپنے کردار کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاست اور سیکیورٹی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا

