تحریر : راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کسی بھی ملک کے لیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے نوجوان اپنی محنت، عزم اور صلاحیتوں کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنے وطن کا مثبت تشخص اجاگر کریں۔ کھیل کا میدان ہو، تعلیم کا شعبہ، ادب ہو یا تحقیق، جب پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں تو پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ برطانیہ کے شہر وارنگٹن میں ہاف میراتھن مکمل کرکے عبیر واحد جسرا نے بھی اسی جذبے اور عزم کی ایک خوبصورت مثال قائم کی ہے۔
ضلع خوشاب کے خوبصورت گاؤں پیلووینس سے تعلق رکھنے والے عبیر واحد جسرا نے وارنگٹن رننگ فیسٹیول ہاف میراتھن میں 21.1 کلومیٹر کا مشکل اور طویل فاصلہ کامیابی سے طے کیا۔ یہ کامیابی محض ایک دوڑ مکمل کرنے کا نام نہیں بلکہ عزم، مستقل مزاجی، جسمانی فٹنس اور بلند حوصلے کی عملی تصویر ہے۔ ان کی اس کاوش نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پیلووینس، ضلع خوشاب اور پاکستان سے وابستہ لوگوں کو بھی خوشی اور فخر کا احساس دیا ہے۔
عبیر واحد جسرا معروف اور معزز جسرا خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ وہ ایکس کنٹری ڈائریکٹر یو این او ڈاکٹر ملک عبدالواحد جسرا کے صاحبزادے اور اسلام آباد کی معروف سماجی شخصیت ملک شہیر واحد جسرا کے بھائی ہیں۔ ان کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس نے سماجی اور عوامی سطح پر اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر رکھی ہے۔
وارنگٹن میں ہاف میراتھن ریسوں کی روایت بھی خاصی پرانی ہے۔ انگلش ہاف میراتھن کا آغاز 2009ء میں ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرگرمی شہر کے نمایاں سالانہ کھیلوں کے مقابلوں میں شمار ہونے لگی۔ ایسے عالمی ماحول میں پاکستانی نوجوان کی شرکت اور 21.1 کلومیٹر کا فاصلہ کامیابی سے مکمل کرنا یقیناً ایک قابلِ ذکر کاوش ہے۔
تاہم عبیر واحد جسرا کی کامیابی کا سب سے خوبصورت پہلو ان کا وہ پیغام ہے جو انہوں نے اس کامیابی کے بعد نوجوانوں کے نام دیا۔ ان کے مطابق اس دوڑ کو مکمل کرنے کا مقصد صرف ذاتی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے گاؤں پیلووینس اور ضلع خوشاب کے نوجوانوں سمیت ہر فرد کو ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔
یہ سوچ آج کے دور میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جدید زندگی میں سہولتوں کے بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں میں کمی ایک عام مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا وقت موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر اسکرینز پر گزرتا ہے۔ ایسے ماحول میں کھیل، واک، دوڑ اور باقاعدہ ورزش کو زندگی کا حصہ بنانا جسمانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط اور مثبت طرزِ زندگی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔
عبیر واحد جسرا کا یہ کہنا کہ "ہم سب اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں سامنے لانے کی کوشش کریں” دراصل نوجوان نسل کے لیے ایک جامع پیغام ہے۔ کامیابی ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں ملتی؛ کئی مرتبہ یہ ایک چھوٹے سے فیصلے، مسلسل محنت اور اپنے مقصد پر یقین سے جنم لیتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ باقاعدہ ورزش جسمانی صحت کے ساتھ روزمرہ زندگی میں نظم و ضبط، ذہنی مضبوطی اور مجموعی فلاح و بہبود میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا یہ پیغام قابلِ توجہ ہے کہ نوجوان اپنے لیے نئے اہداف مقرر کریں اور خود کو آزمانے سے نہ گھبرائیں۔ یہی جذبہ انسان کو اپنی صلاحیتوں سے آگے بڑھ کر نئے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
خاص طور پر ان کا یہ خواب قابلِ تحسین ہے کہ اگر ان کی کوشش سے پیلووینس یا ضلع خوشاب کا ایک بھی نوجوان دوڑنے، ورزش کرنے یا اپنی صحت پر توجہ دینے کی طرف راغب ہوجائے تو وہ اسے اپنی کامیابی کا سب سے خوبصورت نتیجہ سمجھیں گے۔ درحقیقت یہی سوچ کسی بھی انفرادی کامیابی کو اجتماعی تحریک میں تبدیل کرسکتی ہے۔
عبیر واحد جسرا کی ہاف میراتھن میں شرکت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے صرف صلاحیت ہی نہیں بلکہ محنت، تسلسل، نظم و ضبط اور مثبت سوچ بھی ضروری ہے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں پیلووینس سے نکلنے والا نوجوان جب برطانیہ کے ایک عالمی کھیلوں کے ماحول میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ پیغام بھی سامنے آتا ہے کہ کامیابی کے دروازے جغرافیائی حدود کے پابند نہیں ہوتے۔
عبیر واحد جسرا کی اس کامیابی پر اہلِ علاقہ، عوامی، سماجی اور کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار اس بات کا مظہر ہے کہ معاشرہ ایسے مثبت کرداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو کھیلوں، ورزش اور صحت مند سرگرمیوں کے لیے بہتر مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے۔
عبیر واحد جسرا کی 21.1 کلومیٹر ہاف میراتھن دراصل صرف ایک فاصلہ طے کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس عزم کی داستان ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد کا تعین کرلے، مسلسل محنت کرے اور راستے کی مشکلات سے نہ گھبرائے تو وہ اپنے لیے بھی کامیابی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی حوصلے اور امید کا چراغ روشن کرسکتا ہے۔
پیلووینس سے وارنگٹن تک عبیر واحد جسرا کا یہ سفر یقیناً ضلع خوشاب کے نوجوانوں کے لیے ایک خوبصورت اور مثبت پیغام ہے کہ دوڑ صرف میدان میں نہیں، زندگی میں بھی جیتنے کے لیے ہوتی ہے۔


