پسرور (محمد اشفاق – بے نقاب نیوز )
دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کے بعد انتہائی مشکل وقت میں معاشی تباہی اور دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے تو اس کے فوراً بعد امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے پاکستان پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دیں، جن کا مقصد پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے دستبردار (سرنڈر) ہونے پر مجبور کرنا تھا۔
ایسے کٹھن اور مشکل ترین وقت میں ایک سچا اور مخلص دوست میدان میں آیا۔ اس ملک نے پاکستان کی انڈسٹری اور معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار بیرل خام تیل فراہم کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر روزانہ تیل بردار جہاز اترتے رہے اور ملک کا پہیہ چلتا رہا۔
حیرت انگیز اور تاریخی بات یہ ہے کہ تین سال بعد جب پاکستان کو اس تیل کی مد میں تقریباً 3.5 ارب ڈالرز کی رقم ادا کرنی تھی، تو اس اسلامی برادر ملک نے یہ رقم لینے سے صاف انکار کر دیا اور اعلان کیا کہ یہ رقم ہماری طرف سے پاکستانی عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ اس ملک نے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے، جن کی بھیجی گئی رقم (زرِ مبادلہ) سے آج بھی پاکستان کی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ معاشی تباہی کے اس دور میں پاکستان کی پشت پناہی کرنے والا یہ سچا اور مخلص دوست کوئی اور نہیں بلکہ سعودی عرب ہے۔


