تحریر : راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ایک اچھا استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ اپنے شاگردوں کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے اساتذہ کرام کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جن کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں بھی کیا جائے تو یہ دراصل علم، استاد اور تعلیم کے احترام کا اظہار ہوتا ہے۔
پروفیسر ملک احمد شیر کھارا پنجاب کے ممتاز ماہرین تعلیم میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، جنہیں انہوں نے اپنی عملی زندگی میں بروئے کار لا کر شعبۂ تعلیم میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ محکمۂ تعلیم پنجاب سے طویل وابستگی کے دوران انہوں نے نہ صرف تدریسی فرائض احسن انداز میں انجام دیے بلکہ ہزاروں طلبہ کی علمی و فکری تربیت بھی کی۔
پروفیسر ملک احمد شیر کھارا کے شاگرد آج ملک و ملت کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کسی استاد کے لیے اس سے بڑھ کر اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے پڑھائے ہوئے طلبہ مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بلاشبہ یہ ان کی علمی محنت، خلوص اور تدریسی خدمات کا عملی ثمر ہے۔
پروفیسر ملک احمد شیر کھارا کا تعلق ضلع خوشاب کی معروف بستی نکڑو شہید سے ہے۔ وہ علاقے کی ایک معزز اور معروف زمیندار کھارا فیملی کے قابلِ فخر چشم و چراغ ہیں۔ اپنی خاندانی روایات کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ذاتی صلاحیتوں، محنت اور کردار کے ذریعے بھی عزت و احترام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت میں ملنساری، خوش گفتاری، شائستگی، وقار اور خلوص جیسی خوبیاں نمایاں ہیں، یہی اوصاف انہیں اپنے حلقۂ احباب اور شاگردوں میں ہر دلعزیز بناتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پروفیسر ملک احمد شیر کھارا ضلع خوشاب کے معروف ماہرین تعلیم پروفیسر ملک محمد یوسف کھارا اور ایس ایس ملک حسن شیر کھارا کے بڑے بھائی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو کھارا خاندان نے شعبۂ تعلیم کے میدان میں ایک قابلِ قدر روایت قائم کی ہے۔ ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کا تعلیم جیسے مقدس شعبے سے وابستہ ہونا اس خاندان کی علمی وابستگی اور معاشرتی خدمت کا واضح ثبوت ہے۔
ضلع خوشاب جیسے خطے میں تعلیم کے فروغ کے لیے جن خاندانوں اور شخصیات نے طویل عرصے تک اپنی خدمات پیش کی ہیں، ان میں کھارا خاندان کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ نسلوں کی فکری تربیت اور تعلیم کے ذریعے معاشرے کو بہتر بنانے والے افراد دراصل خاموشی سے قوم کا مستقبل سنوارتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اثر صرف ایک ادارے یا ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کے شاگرد آگے چل کر اپنی صلاحیتوں کے ذریعے پورے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
پروفیسر ملک احمد شیر کھارا کی شخصیت اسی علمی روایت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کو جو علم، تربیت اور شعور دیتا ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے میں مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مخلص استاد کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے پروفیسر ملک احمد شیر کھارا اور ان کے خاندان کی شعبۂ تعلیم کے لیے خدمات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے محسن اساتذہ اور علمی شخصیات ہمارے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہیں اور نئی نسل کو ان کی علمی و اخلاقی خدمات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر ملک احمد شیر کھارا کو صحت، سلامتی، عزت، خوشیوں اور مزید کامیابیوں سے نوازے، ان کی علمی و تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان سے وابستہ تمام رشتوں کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین۔


