واشنگٹن / کوپن ہیگن:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکا نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ ایک تاریخی اور اسٹریٹجک آرکٹک سکیورٹی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران اس نیم خود مختار ڈینش خطے کو طاقت کے زور پر ضم کرنے یا خریدنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے اس ڈیل کو "بہت اہم، تاریخی اور خصوصی” قرار دیتے ہوئے اسے اپنی ایک بڑی ذاتی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں سکیورٹی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول حاصل ہو جائے گا، جس سے امریکا کے تمام دیرینہ خدشات کا ازالہ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ہم گرین لینڈ کے مناسب حصوں میں ایک بڑی فوجی موجودگی قائم کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کر دیں گے۔”
دی گارجین کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے اسے مکمل امریکی کنٹرول کے طور پر پیش کیا ہے، تاہم ڈنمارک کی وزیراعظم مٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے حکومت کے رہنما جینس فریڈرکسن نیلسن کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کی اس پرانی خواہش سے کہیں مختلف ہے جس میں وہ گرین لینڈ کو خریدنے یا زبردستی حاصل کرنے کی بات کرتے تھے۔
ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ تینوں فریقین کے درمیان یہ ایک "عظیم معاہدہ” ہے جو سلطنت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خودارادیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ گرین لینڈ کے رہنما جینس نیلسن نے بھی اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گرین لینڈ، ڈنمارک، امریکہ اور مغربی اتحاد کی سکیورٹی مزید مستحکم ہوگی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ معاہدہ دراصل ناٹو (NATO) کے تحت امریکا کو پہلے سے حاصل سکیورٹی حقوق کی ہی توثیق یا توسیع ہے۔ طے پانے کے بعد اس معاہدے کو پارلیمانی کارروائی سے بھی گزارا جائے گا۔
عالمی سیاسی تجزیات کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات (Midterms) سے چند ہفتے قبل یہ اعلان ریپبلکنز کے لیے ایک بڑا سفارتی اور سیاسی کارنامہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کو اندرونِ ملک شدید عوامی تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
روس اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک پوزیشن کے حامل قطبی خطے (Arctic) میں پگھلتی ہوئی برف اور معدنیات سے مالا مال 56 ہزار آبادی والے جزیرے گرین لینڈ پر ماضی میں بھی امریکا کی گہری نظر رہی ہے۔ تاہم اس نئے معاہدے کے بعد اب آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر تینوں حکومتوں کے سربراہان اس پر باضابطہ دستخط کریں گے۔


