تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مشرق وسطیٰ اور بالخصوص خلیج اور فارس کا علاقہ اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یمن، عراق اور دیگر خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نہ صرف خطے بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا کا معاشی و سیاسی امن خطرے میں نظر آ رہا ہے۔
-
باب المندب اور آبنائے ہرمز: اگر یمن اور خلیج کی جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو دنیا کے دو اہم ترین بحری راستے (باب المندب اور آبنائے ہرمز) بند ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
-
عالمی معاشی تباہی: ان راستوں کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور تجارت شدید متاثر ہوگی، جس سے پہلے سے معاشی بحران کے شکار ممالک (بشمول پاکستان) کنگال ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔
-
چالیس سالہ حکمتِ عملی: ایران نے گزشتہ چار دہائیوں میں خطے میں اپنی پراکسیز کو مضبوط کیا ہے۔
-
جنگ کا پھیلاؤ: یمن اور عراق کی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بعد اگر دیگر علاقوں میں قائم پراکسیز متحرک ہوئیں تو خلیجی ممالک، تمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص پاکستان پر اس کے براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
-
یمن اور افغانستان کا موازنہ: یمن کا قبیلائی اور جغرافیائی نظام بہت حد تک افغانستان سے مشابہت رکھتا ہے، جسے تسخیر کرنا ناممکنات میں سے ہے۔
-
حوثی تحریک (انصار اللہ) کی حقیقت:
-
انصار اللہ بنیادی طور پر زیدی عقیدے کے حامل افراد اور شافعی سنیوں کا اتحاد ہے۔
-
زیدی عقیدہ اہل سنت کے کافی قریب سمجھا جاتا ہے؛ یہ سنتوں کی مساجد میں نماز پڑھتے ہیں اور صحابہ کرام پر تبرا نہیں کرتے، تاہم بعض عقائد اثناء عشری سے ملتے ہیں۔
-
-
میڈیا وار اور علماء کا کردار: سرحدوں پر جنگ کے ساتھ ساتھ ایک شدید "میڈیا وار” بھی جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی اور دینی قیادت غیر تصدیق شدہ خبروں کی بنیاد پر بیانات دینے کے بجائے خطے کی سیاسی و جغرافیائی حقیقتوں کو سمجھے۔
-
متوازن سفارت کاری: حکومتِ پاکستان کو جذباتی یا یکطرفہ فیصلوں کے بجائے انتہائی ہوش و حواس سے فیصلے کرنے ہوں گے۔
-
داخلی استحکام: ملک کے اندرونی مسلکی و مذہبی ماحول کو پرامن رکھنا اور بیرونی تنازعات سے دور رہنا ہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔


