واشنگٹن:امریکہ سے ایک انتہائی اہم معاشی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن پر فی الحال زیادہ بات نہیں ہو رہی، تاہم انہوں نے پچھلے 67 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ امریکی مردم شماری بیورو (Census Bureau) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گر کر 10.2 فیصد پر آ گئی ہے، جو سن 1959 میں اس کی باضابطہ گنتی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے اندر 14 لاکھ (1.4 ملین) افراد غربت کی لکیر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانی خاندان کی آمدنی (Median Household Income) میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر 87,460 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ بچوں میں غربت کی شرح بھی کم ہو کر 13.4 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مسلسل دو سال سے غربت میں آنے والی اس گراوٹ پر حکارتی حلقوں میں جشن کا سا ماحول ہے۔
دوسری طرف، اگر زمینی حقائق اور عوام کے موڈ کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ امریکی عوام آج بھی پولسٹرز کو یہی بتا رہے ہیں کہ انہیں معاشی حالات اب بھی کافی سخت محسوس ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ وقت کا فرق (Timing) ہے، کیونکہ اعداد و شمار ماضی کے ہوتے ہیں جبکہ عوام کو 2026 کی مہنگائی اور قیمتوں کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ ان سرکاری اعداد و شمار کے کچھ نقائص بھی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے:
ملک میں اب بھی 2 کروڑ 67 لاکھ (26.7 ملین) افراد ایسے ہیں جو پورا سال بغیر کسی ہیلتھ انشورنس کے گزارتے ہیں۔
حکومتی پیمانے کے مطابق چار افراد پر مشتمل خاندان کو غربت سے باہر نکلنے کے لیے سالانہ صرف 32,649 ڈالر کمانے کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے نومبر کے انتخابات میں سیاستدان انہی معاشی اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے خلاف مہم چلائیں گے، جب کہ عام آدمی کی روزمرہ کی مشکلات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

