تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب کے حکمرانی کے ایوانوں میں ایک بار پھر انتظامی شطرنج کے مہرے ہلائے جا رہے ہیں اور اقتدار کی بساط پر ایک بڑے فیصلے کی سرگوشیاں زور پکڑ چکی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کو ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی فارغ کر کے، کابینہ ڈویژن میں اسپیشل سیکرٹری کے فرائض انجام دینے والی سارہ اسلم کو صوبے کا نیا انتظامی سربراہ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ سارہ اسلم کا نام پنجاب کی بیوروکریسی کے لیے نیا نہیں۔ وہ صحت، آبپاشی اور لوکل گورنمنٹ جیسے اہم محکموں میں کلیدی انتظامی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ آسٹریلین یونیورسٹی، کینبرا سے پبلک پالیسی اور قائداعظم یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی BS-21 کی اس سینئر افسر کے کریڈٹ پر انتظامی تجربے کی ایک طویل فہرست درج ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کی صوبے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی کے عہدوں پر خاتون افسران تعینات کرنے کی خواہش پر عملدرآمد ہوتا ہے اور حکومت انہیں انتظامی سربراہی کے لیے منتخب کرتی ہے، تو یہ بیوروکریسی کے اندر طاقت کے توازن اور انتظامی ڈھانچے میں ایک نمایاں تبدیلی تصور کی جائے گی۔ اگر نومبر میں انعقاد پذیر ہونے والے ہائی پاور سلیکشن بورڈ میں سارہ اسلم کی BS-22 میں ترقی کی منظوری ہو جاتی ہے، تو وہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کے طاقتور منصب پر متمکن ہو سکتی ہیں۔ انتظامی بساط پر اختیارات اور اعلیٰ عہدوں کی یہی بحث صوبائی پولیس کمانڈ کے حوالے سے بھی اتنی ہی حساس اور اہم ہو جاتی ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری اور سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر جیسی متحرک خواتین افسران کے نام بھی آئی جی پنجاب کے منصب کے لیے افواہوں اور خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ جس پر خود خاتون پولیس افسران حیران تھیں، کیونکہ آئی جی پنجاب کے عہدے کے لیے کم از کم گریڈ 21 کے افسر کو تعینات کیا جا سکتا ہے اور فی الوقت پنجاب پولیس میں گریڈ 20 (یا اس سے اوپر) کی کوئی خاتون افسر بھی موجود نہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا یہ فیصلہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے اور سارہ اسلم اس منصب تک پہنچتی ہیں، تو یہ پنجاب کی بیوروکریسی کا ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ تاہم، اس تمام تر سیاسی و انتظامی تحرک کی کامیابی کا حقیقی فیصلہ عہدہ سنبھالنے کی رسم سے نہیں، بلکہ فیلڈ ایڈمنسٹریشن کی مضبوطی، افسران کے غیر جانبدارانہ احتساب، عوامی مسائل کی فوری داد رسی اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کے نتائج سے طے پائے گا۔
”کیا پنجاب کو پہلی بار خاتون چیف سیکرٹری ملنے جا رہی ہے،آئی جی کون؟“


