فورٹ پورٹل:یوگنڈا کی روایتی ٹورو (Tooro) سلطنت کے معروف اور طویل عرصے تک دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ رہے کنگ اویو نییمبا کابانبا اگورو رکیدی چہارم (King Oyo) کو ان کے آبائی شاہی مقبروں میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی سلطنت میں جانشینی کی تلخ رسہ کشی اور تنازع کا بھی عارضی خاتمہ ہو گیا ہے۔
گارجین کی رپورٹ کے مطابق تدفین کی اس پروقار مگر حزن و ملال سے بھرپور تقریب کے دوران، اویو کے نامزد کردہ جانشین اور سرکاری ٹی وی (UBC) کے نیوز اینکر ایڈورڈ رکیدی کیجانگوما (Edward Rukidi Kijanangoma) نے کارمبی رائل ٹومبس میں قبر پر نو کافی کے دانے ڈال کر مغربی یوگنڈا کی اس قدیم سلطنت میں باضابطہ طور پر اقتدار کی منتقلی کی رسم ادا کی۔
کنگ اویو نے 1995 میں اس وقت عالمی سطح پر سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب وہ محض تین سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے تھے، اور ان کی تاج پوشی کی تصاویر نے پوری دنیا میں حیرت اور سحر طاری کر دیا تھا۔ گزشتہ ماہ وہ امریکہ میں کینسر کا علاج کرواتے ہوئے 34 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی تدفین ان کی تاج پوشی کی اکیسویں سالگرہ کے دن عمل میں آئی۔
تدفین سے قبل منعقدہ گرجا گھر کی تقریب میں ان کی ہمشیرہ روتھ کومونٹالے نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یاد کیا کہ وہ اتنی بڑی ذمہ داریاں اٹھانے کے باوجود اندر سے ایک زندہ دل انسان تھے۔ روایتی نارنجی شالوں میں ملبوس شاہی محافظوں کی زیرِ رہنمائی ان کا جسدِ خاکی دارالحکومت فورٹ پورٹل کی سڑکوں سے گزارا گیا جہاں ہزاروں سوگواران نے جلوس میں شرکت کی۔
آخری رسومات سے قبل شاہی خاندان کے اندر شدید اختلافات اور جانشینی کی جنگ جاری رہی۔ شاہی کمیٹی نے اویو کے کزن اور نیوز اینکر کیجانگوما کو نیا بادشاہ چنا، جبکہ اویو کے قریبی خاندان کا اصرار تھا کہ ان کی وصیت کے مطابق ان کا ایک نامعلوم بیٹا تخت کا وارث ہونا چاہیے۔ تاہم بحران کے خاتمے کے لیے حکومتی مداخلت کے بعد جمعے کو کیجانگوما کی جانشینی پر مہر ثبت کر دی گئی۔ نئے بادشاہ اب تخت کے ساتھ ساتھ وسیع ارضی جائیدادوں اور سرکاری فنڈز کے وارث بھی بن گئے ہیں۔
دنیا کا کم عمر ترین بادشاہ سپردخاک، کیا یوگنڈا کی تاج وتخت اب نیوز اینکر کو ملے گا؟

