ہرلڑکی کی خواہش ،افسرلڑکا،بڑاگھر،سونے کے زیورات،اکلوتا بیٹا
تحریر: محمد سلیم اختر میو
(جہاں لفظ بے نقاب ہوں، وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے)
معاشرے میں ایک عجیب صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے؛ دو مرلے کے گھر میں بیٹھی چار کنواری لڑکیوں میں سے کسی ایک کا رشتہ پوچھا جائے تو گھر والوں کی ڈیمانڈز کچھ یوں ہوتی ہیں:
-
ملازمت: کم از کم 17ویں گریڈ (یا اس کے مساوی) کی سرکاری/اچھی نوکری۔
-
رہائش: کم از کم 10 مرلے کا اپنا ذاتی گھر۔
-
زیورات: کم از کم تین تولے سونا۔
- فیملی: چھوٹی یا انفرادی فیملی جہاں ذمہ داریوں کا بوجھ نہ ہو۔
گھرمیں کام کرنے کیلئے نوکروں کی فوج ہواوراللہ کرے اکلوتا بیٹاہونے کے ساتھ ساتھ ساس ۔سسربھی وفات پاچکے ہوں
ایسے حالات میں اگر ملک کی 13 کروڑ خواتین میں سے 35 سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ دوشیزائیں شادی کی منتظر ہوں تو یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔
والدین بچی کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے صرف مال دار یا اعلیٰ عہدے دار لڑکا تلاش کرتے ہیں، جبکہ یہ سوچ بچی کی عزت، سکون اور آسانی کی ضامن نہیں ہوتی۔ حقیقی ضامن تو انسانیت، سچا کردار اور باعمل دین داری ہے۔
دوسری طرف، اگر کسی لڑکے کا باپ 20 یا 21 سال کی عمر میں بیٹے کی شادی کرنا چاہے تو آگے سے یہ سننے کو ملتا ہے: "بچیاں ابھی پڑھ رہی ہیں، بچے کو پہلے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دیں، یہ کیا کرے گا اور کیسے کھلائے گا؟”
آج تعلیم اور ملازمت کا حصول بروقت نکاح کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ نکاح نہ تو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی ملازمت میں۔ اسی سوچ کی وجہ سے بچے اور بچیوں کی شادی کی سنہری عمر نکل جاتی ہے، جس کے بعد زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے بے شمار معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔
خدارا شادی کے معاملے میں وہی معیار اپنائیں جو ہماری شریعت نے مقرر کیا ہے۔ جب نکاح کو مشکل بنایا جائے گا تو معاشرے میں برائی اور بے راہ روی ہی پھیلے گی، جسے روکنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔






