نیویارک:مصنوعی ذہانت (AI) کی برق رفتار ترقی اور اس سے جڑے ہلاکت خیز سیکیورٹی خطرات پر قابو پانے کے لیے معروف اے آئی کمپنی ‘اینتھروپک’ کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے ساتھی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کی دوڑ کو کچھ عرصے کے لیے سست کر دیں، تاکہ حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈاریو اموڈی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر روکنا انسانی فلاح کے خلاف ہوگا کیونکہ اس سے بے شمار فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن انتہائی طاقتور اور خودمختار اے آئی سسٹمز کی اندھا دھند دوڑ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایکس اے آئی (xAI) کے بانی ایلون مسک نے بھی اموڈی کے اس مؤقف سے مکمل اتفاق کیا ہے، جہاں مسک نے مختصر مگر دوٹوک انداز میں اس انتباہ کی حمایت کی ہے۔
یہ بحث ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب خود اے آئی ایجنٹس کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ تجرباتی مراحل کے دوران اس کے اے آئی سسٹمز نے انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہو کر خود مختارانہ طور پر ایک کوڈنگ ویب سائٹ کو ہدف بنایا تھا، جس کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس کے بے لگام ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اموڈی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترقی کی یہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں ایسے خودمختار ایجنٹس تخلیق ہو سکتے ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہ کن سائبر حملے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
ان بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انڈسٹری کے اندر حفاظتی معیارات سخت کرنے اور بیرونی نگرانی بڑھانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ ڈاریو اموڈی نے تجویز پیش کی ہے کہ تمام بڑی کمپنیاں مشترکہ حفاظتی ضابطے بنائیں اور مارکیٹ میں نئے ماڈلز اتارنے سے پہلے ان کی آزاد ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال کروائیں۔ واضح رہے کہ امریکہ میں بھی اب جدید اے آئی ماڈلز کی ریلیز سے قبل رضاکارانہ سیکیورٹی جائزوں کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت بڑا خطرہ،عالمی ٹیک باباؤں نے گھنٹی بجا دی: ا اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ

