واشنگٹن: امریکی سینیٹرز کے ایک دو فریقی (Bipartisan) گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر بھارت میں قائم تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جن پر ہزاروں امریکیوں اور امریکی کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک اور چوری کرنے کا الزام ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹرز رون وائیڈن اور شیلڈن وائٹ ہاؤس اور ریپبلکن پینٹ ہیریگن نے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیل ٹروکس لمیٹیڈ (BellTrox Ltd) سن کسڈ آرگینک پرائیویٹ لمیٹیڈ (Sunkissed Organic Pvt Ltd) اور سائبر روٹ لمیٹیڈ (CyberRoot Ltd) کے خلاف سخت اقدام کریں۔ ان کا موقف ہے کہ ان کمپنیوں نے ہزاروں امریکیوں اور امریکی فرموں کا ڈیٹا ہیک کر کے چرایا ہے۔
امریکی کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک کر کے چرایا
سینیٹرز وائیڈن، ہیریگن اور وائٹ ہاؤس نے لٹنک کو لکھے گئے خط میں کہا، "بھارت میں قائم کئی سائبر کرائے کے گروپوں (Cyber-mercenary groups) نے امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور ان کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے خلاف ٹارگٹڈ جاسوسی کرنے میں 15 سال سے زیادہ کا وقت گزارا ہے”۔
وکلاء کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہیکنگ
سینیٹرز نے کہا کہ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ اور ‘دی سٹیزن لیب’ کی تحقیقات کے مطابق، ان کمپنیوں نے جاری قانونی چارہ جوئی (Litigation) پر اثر انداز ہونے اور اس میں ہیرا پھیری کرنے کے لیے نجی ایکویٹی فرموں، فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور امریکہ کی بڑی لا فرموں کے 1,000 سے زیادہ وکلاء کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہیکنگ مہم چلائی۔
امریکی سینیٹرز نے کہا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ گروپ قطری حکومت کے ایما پر کام کر رہے تھے، جن کا مقصد قطر کی ورلڈ کپ بولی (World Cup Bid) کے مخالفین اور ہاؤس پرمیننٹ سلیکٹ کمیٹی آن انٹیلی جنس کے ایک سابق ریپبلکن چیئرمین کے خاندان کو نشانہ بنانا تھا۔

