اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف روینیو (FBR) نے بجٹ کے وضاحتی سرکلر میں مختلف شعبوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اہم ترامیم کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت رواں سال یکم جولائی سے ملک بھر کے فری لانسرز اور آزادانہ پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے نئے سرکلر کے مطابق، یکم جولائی 2026 سے ڈاکٹروں، وکلا، معماروں (ارکیٹیکٹس)، اکاؤنٹنٹس اور سافٹ ویئر انجینئرز یا ڈویلپرز سمیت ان تمام افراد پر 15 فیصد کی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا جو انفرادی طور پر اپنی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے فرسٹ شیڈول میں کی گئی دیگر ترامیم کے تحت عام سروسز پر یہ شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کر دی گئی ہے۔
مختلف دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی نئے ٹیکس ریٹس کا تعین کیا گیا ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ٹرمینل اور پورٹ آپریٹنگ سروسز: کمپنیوں کو ملنے والی مجموعی رقم پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
دیگر تمام غیر متعین سروسز: فہرست میں شامل نہ ہونے والی دیگر خدمات پر مجموعی رقم کا 14 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
قرضی سیکیورٹیز (Debt Securities): سیکشن 151A کے تحت قرضی سیکیورٹیز کی فروخت پر کیپیٹل گین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے ان احکامات کا مقصد ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور مختلف سیکٹرز سے ریونیو کی وصولی کو بہتر بنانا ہے۔

