سیول:جنوبی کوریا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز اور گشتی طیارے تعینات کرنے کے قریب تر ہونے پر ملک بھر میں شدید احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔ پارلیمنٹ کی منظوری کی صورت میں 2004 میں عراق جنگ کے بعد واشنگٹن کی درخواست پر یہ جنوبی کوریا کی پہلی غیر ملکی عسکری تعیناتی ہوگی۔
جنوبی کوریا اپنی توانائی اور تیل کی ضروریات کا بیشتر حصہ اسی بحری راستے سے حاصل کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت اس اہم تجارتی گزرگاہ کو محفوظ بنانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب، ایران نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں سرگرمی دکھانے والے کسی بھی ملک کو امریکا کا حامی سمجھا جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی مظاہروں کے باوجود حکومتی حلقوں کی جانب سے اس عسکری مشن پر غور جاری ہے۔
جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز اور طیارے بھیجنے کا فیصلہ: سیول میں شدید احتجاج ، ایران کی سخت وارننگ

