پیرس:فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کے مشہورِ زمانہ سیاحتی مقام ایفل ٹاور کے ملازمین نے صنفِ نازک کو مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اچانک ہڑتال کر دی، جس کے باعث ٹاور کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ہندو روحانی تنظیم ‘بی اے پی ایس’ (BAPS) سے وابستہ تقریباً 100 افراد کے ایک وفد نے فرانس کے دورے کے دوران ایفل ٹاور کا دورہ کیا۔
ٹاور کی انتظامی کمپنی (SETE) نے اعتراف کیا ہے کہ اس مذہبی وفد کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ دورے کے دوران خواتین عملے کے ساتھ میل جول کو محدود رکھا جائے۔ انتظامیہ نے اس فرمائش پر عمل کرتے ہوئے خواتین ملازمین کو ان کی ڈیوٹیوں سے ہٹا دیا، انہیں مخصوص علاقوں میں جانے سے روک دیا یا ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کر دیا تاکہ وہ وفد کی نظروں سے اوجھل رہیں۔
اس امتیازی سلوک کے خلاف ایفل ٹاور کے عملے نے پیر کے روز شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا اور ٹاور کے باہر دھرنا دے دیا۔ ملازمین کی یونین نے ان ہدایات کو انتہائی توہین آمیز، امتیازی اور صنفی مساوات کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ فرانسیسی سیاسی رہنماؤں اور پیرس کے حکام نے اس واقعے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے "ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ فرانسیسی وزیر برائے صنفی مساوات اور انسدادِ امتیاز اوروری برگے نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "فرانس میں ہم خواتین کو یہ نہیں کہتے کہ وہ خود کو غائب کر لیں، کوئی مذہب یا عقیدہ جمہوری قوانین سے بالاتر نہیں ہے۔” شدید عوامی اور انتظامی دباؤ کے بعد ٹاور کی آپریٹنگ کمپنی نے معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایسی شرائط کو ماننا نہیں چاہیے تھا۔ دوسری جانب بی اے پی ایس تنظیم نے بھی وضاحت کی کہ ان کا مقصد ہرگز خواتین کو ہٹانا یا کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا اور اس نے ناخوشگوار صورتحال پر گہرے افسوس اور معذرت کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد ایفل ٹاور کو دوبارہ سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
ہندو بھگتوں کی کس درخواست نے دنیا کا مشہور ترین ایفل ٹاور ہی بند کرادیا؟

