سیالکوٹ۔سلیم احمد اعوان شیخو
پولیس نے زیر حراست نوجوان پر شدید تشدد کر کے اس کی حالت بگڑنے پر تھانہ سے باہر پھینک دیا اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔بتایا گیا ہے کہ تھانہ کینٹ پولیس کی حراست میں ایک نوجوان پر پولیس نے شدید تشدد کیا اور نوجوان کی حالت غیر ہونے پر اس کو تھانہ سے باہر پھینک کر اس کے لواحقین کو بلا کر ان کو کہا کہ اس کو لے جاؤ جب لواحقین نوجوان کو گورنمنٹ علامہ اقبال میموریل ہسپتال لے کر گئے تو وہ جانبر نہ ہو سکا جبکہ نوجوان کا پوسٹمارٹم نہ ہوا اور نہ ہی کسی پولیس آفیسر و ماتحت ملازم کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا جبکہ نوجوان کے لواحقین نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بتانا بہت مشکل ہے کیونکہ پولیس نے ہمارے بیٹے کو بے گناہ ہونے کے باوجود مار دیا ہے جبکہ اس کے خلاف کوئی مقدمہ بھی درج نہ تھا۔نوجوان کے لواحقین نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور عالیہ نیلم انسپکٹر جنرل آف پولیس عبدالکریم راؤ ریجنل پولیس آفیسر گوجرانولہ ریجن خرم حیدر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن ریٹائرڈ دوست محمد سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کی قبر کشائی کے احکامات جاری کریں اور وجہ موت کا تعین کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔


