گرمی اور نمی بڑھتے ہی گھروں، خصوصاً کچن میں مکھیوں کی آمد بھی بڑھ جاتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں کھلی رہ جائیں، کوڑا دیر تک پڑا رہے یا کچن کی صفائی میں معمولی سی غفلت ہو تو مکھیاں تیزی سے جمع ہونے لگتی ہیں۔
مکھیاں صرف پریشانی کا باعث نہیں بنتیں بلکہ گندگی اور جراثیم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے کھانے کو آلودہ بھی کر سکتی ہیں۔ چند آسان احتیاطی تدابیر گھر میں ان کی تعداد کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
کھانے کو کھلا نہ چھوڑیں
پھل، مٹھائیاں، سالن اور دوسری غذائیں مکھیوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہیں، اس لیے کھانے کو ہمیشہ ڈھکن یا بند ڈبوں میں رکھیں۔ کھانے کے بعد میز اور کچن کاؤنٹر کو بھی فوراً صاف کرنا بہتر ہے۔
کوڑے دان کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
کھانے کے بچے ہوئے ٹکڑے اور گیلا کچرا مکھیوں کیلئے بڑی کشش بن سکتے ہیں۔ ڈھکن والا کوڑے دان استعمال کریں، اسے باقاعدگی سے خالی کریں اور اندرونی حصے کو بھی صاف رکھیں۔
سرکے سے سادہ ٹریپ بنائیں
خصوصاً چھوٹی فروٹ فلائز کیلئے ایک پیالے یا گلاس میں تھوڑی مقدار میں ایپل سائڈر ونیگر ڈال کر اس میں چند قطرے ڈش واشنگ لیکوئڈ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اس ٹریپ کو بچوں اور پالتو جانوروں کی پہنچ سے دور رکھیں
پھل زیادہ دیر باہر نہ رکھیں
زیادہ پکے ہوئے کیلے، آم اور دیگر پھل فروٹ فلائز کو متوجہ کر سکتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پھل فریج میں رکھیں اور خراب یا گلنے والے پھل فوراً الگ کر دیں۔
دروازوں اور کھڑکیوں کا راستہ بند کریں
اگر صفائی کے باوجود مکھیاں مسلسل آرہی ہیں تو دیکھیں کہ کھڑکیوں یا دروازوں پر جالی پھٹی ہوئی تو نہیں۔ باریک میش والی جالی مکھیوں کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
سنک اور کچن کی نمی ختم کریں
سنک میں گندے برتن، کھانے کے ذرات اور مسلسل نمی بھی کیڑوں کو متوجہ کر سکتی ہے۔ رات کو کچن چھوڑنے سے پہلے برتن صاف کر کے سنک اور اردگرد کے حصے کو خشک رکھنے کی کوشش کریں۔
صرف خوشبو پر انحصار نہ کریں
لیموں، لونگ، پودینہ یا دیگر خوشبودار چیزوں کو مکھیوں سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر ان کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ اصل اور زیادہ مؤثر حل صفائی، خوراک کو ڈھانپنا، کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا اور مکھیوں کے داخلے کے راستے بند کرنا ہے۔





