میو ہسپتال میں سٹیج ون کینسر کے 70 سے زائد مریضوں کا مفت کامیاب علاج ، مزید 5 کریوابلیشن مشینیں روانہ
لاہور:پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 17 سالوں کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت کے کارناموں کا حساب مانگ لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنقید کرنے سے پہلے حقائق کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ ہر کوئی سوشل میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرتا۔
میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں عظمیٰ بخاری نے پنجاب کے صحت کے شعبے میں بڑی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر کینسر کے علاج کے لیے مزید 5 جدید "کریوابلیشن مشینیں” خرید کر متعلقہ ہسپتالوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی 2025 میں میو ہسپتال لاہور میں متعارف کرائی گئی تھی، جہاں اب تک سٹیج ون کے کینسر میں مبتلا 70 سے زائد مریضوں کا مکمل طور پر مفت اور کامیاب علاج کیا جا چکا ہے، جبکہ پنجاب حکومت اس مقصد کے لیے سالانہ 5 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔
کن شہروں اور ہسپتالوں کے لیے نئی مشینیں روانہ کی گئی ہیں؟
صوبائی وزیرِ اطلاعات کے مطابق جدید طبی آلات کی فراہمی کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلا دیا گیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
لاہور: نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے 2 مشینیں روانہ کی گئی ہیں۔
ملتان: نشتر ہسپتال کے لیے 1 مشین بھجوائی گئی ہے۔
فیصل آباد: الائیڈ ہسپتال کے لیے 1 مشین روانہ کر دی گئی ہے۔
راولپنڈی: بے نظیر بھٹو ہسپتال کے لیے بھی 1 مشین بھیج دی گئی ہے جو جلد کام شروع کر دے گی۔
عظمیٰ بخاری نے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے حکمران اپنی 17 سالہ کارکردگی کا جواب دینے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "ناالائقی اور جہالت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا”، عوام اب سب کچھ جانتی ہے اور وہ جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوگی۔

