مشترکہ عسکری پیداوار، دفاعی صلاحیتوں اور انٹرآپریبلٹی پر غور کے لیے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان ایک میز پر جمع ہوں گے
استنبول / انقرہ / ریاض / اسلام آباد:ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نئے "مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” کے تحت اپنے پہلے تاریخ ساز اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کے روز استنبول میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان (آرمی چیفس) شرکت کریں گے، جو خطے میں دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے اس اہم اجلاس کا بنیادی مقصد مشترکہ ہتھیاروں کی تیاری، عسکری سازوسامان کے مابین مطابقت (interoperability) کو بہتر بنانا اور اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اس اتحاد کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت اس میں شامل آرٹیکل 5 طرز کی شق ہے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ متصور ہوگا، جو اس معاہدے کو انتہائی مضبوط عسکری گہرائی فراہم کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ عالمی اور علاقائی سکیورٹی منظر نامے میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا یہ سہ فریقی اتحاد خطے میں طاقت توازن کو برقرار رکھنے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا۔ اجلاس کے اختتام پر اہم دفاعی فیصلوں اور مشترکہ منصوبوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔

