قطر سے ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر ؛ پنجاب میں RLNG پر چلنے والے 3 بڑے پاور پلانٹس بیٹھ گئے
بجلی کی پیداوار میں 3600 میگاواٹ کی ہنگامی کمی، ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک جا پہنچا
اسلام آباد:پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک بار پھر سنگین بحران سر اٹھانے لگا ہے، جہاں پاور ڈویژن نے ہفتے کے روز ملک بھر میں طویل دورانیے کی غیراعلانیہ اور ہنگامی بجلی کی بندش کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر پٹرولیم ڈویژن کے سر ڈال دی ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کے مطابق پنجاب میں آر ایل این جی (RLNG) پر چلنے والے تین اہم بجلی گھروں کو درکار ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کو قطر سے معاہدے کے تحت ملنے والی گیس کی فراہمی ‘فورس میجر’ (Force Majeure) کی ناگزیر صورتحال کے باعث معطل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت کو مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آر ایل این جی کے نئے کارگو کی آمد میں تاخیر نے ایندھن کے بحران کو مزید بھیانک بنا دیا، جس سے بجلی کی پیداوار کو شدید دھچکا لگا۔
پاور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بجلی کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 3,600 میگاواٹ کی تاریخی کمی واقع ہوئی، جبکہ دوسری طرف منگلا ہائیڈرو پاور منصوبے سے بھی بجلی کی پیداوار تقریباً 195 میگاواٹ کم ہو گئی۔ طلب اور رسد کے درمیان اس خلیج کے بڑھنے کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک جا پہنچا۔ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہوئی کیونکہ جنوبی علاقوں میں دستیاب اضافی بجلی کو محدود ترسیلی صلاحیت (Transmission Constraints) کے باعث شمالی حصوں تک منتقل نہیں کیا جا سکا۔
بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو بھی فعال کیا گیا، تاہم وہ آر ایل این جی پلانٹس کی بندش سے پیدا ہونے والے خلا کو مکمل طور پر پر نہ کر سکے۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اگرچہ دن کے اوقات میں کوئی باقاعدہ لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی، تاہم زیادہ ترسیلی نقصانات والے علاقوں میں طے شدہ شیڈول کے تحت بجلی بند رکھی گئی جبکہ رات کے وقت طلب کے عروج (Peak Hours) میں 1.5 سے 3 گھنٹے کی عارضی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آر ایل این جی کارگو کے پہنچنے اور متاثرہ پلانٹس میں پیداوار بحال ہوتے ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی، تاہم اس بحران نے ایک بار پھر ملک کے پاور سیکٹر کی کمزور منصوبہ بندی اور ایندھن کی سپلائی کے ناقص نظام کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔

