نئی دہلی:بھارت کی سپریم کورٹ نے عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی انوکھا اور انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے 105 سالہ ضعیف قیدی رسک چندر منڈل کو بڑا ریلیف دیدیا۔
مغربی بنگال کے ضلع مالدہ سے تعلق رکھنے والے رسک چندر منڈل 1920ء میں پیدا ہوئے تھے۔ سال 1988ء میں پیش آنے والے ایک قتل کے تنازع میں انہیں 1994ء میں (جب ان کی عمر 68 برس تھی) مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی
جمعہ کے روز چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اس طویل ترین کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے رسک چندر منڈل کی انتہائی ضعیفی اور بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نومبر 2024ء میں دی جانے والی عبوری ضمانت کو اب مستقل اور حتمی قرار دیا جاتا ہے، اور ان کی سزا کا جو حصہ بھی باقی ہے، اسے مکمل طور پر معاف کیا جاتا ہے۔
38 سالہ طویل قانونی جنگ کا اختتام
یہ مقدمہ 1988ء میں شروع ہوا تھا اور 2026ء تک یعنی تقریباً 38 سال تک مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا۔ اس دوران رسک چندر منڈل ایک ادھیڑ عمر شخص سے گزر کر 105 سال کی عمر کے طویل العمر بزرگ بن چکے ہیں۔
سال 2018ء میں کلکتہ ہائی کورٹ نے ان کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی، جس کے بعد وہ سپریم کورٹ آئے تھے۔ سنہ 2020ء میں جب وہ 99 برس کے تھے، انہوں نے اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور علالت کی بنیاد پر قبل از وقت رہائی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس بھی جاری کیے تھے۔ آخرکار، سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی لگ بھگ چار دہائیوں پر محیط یہ قانونی باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔

