پھانسی کے نئے کمپلیکس کی تعمیر کی ویڈیو جاری، متاثرہ خاندانوں کے لیے ویونگ بوتھ بنانے کا دعویٰ
متنازع قانون کے تحت یہ سزائیں صرف فلسطینیوں کو دی جائیں گی جبکہ یہودی انتہا پسند اس سے مستثنیٰ ہوں گے،
تل ابیب/یروشلم:اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے نیشنل سکیورٹی وزیر اتمار بن گویر نے فخر سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس میں فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے لیے ایک نئے کمپلیکس (پھانسی گھر) کی تعمیر دکھائی گئی ہے۔ اس شرمناک اقدام اور تعصب پر مبنی قانون پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گارجین اخبار کے مطابق، ماضی میں بھی بین الاقوامی پابندیوں اور مذمت کا سامنا کرنے والے وزیر اتمار بن گویر نے ویڈیو میں تعمیراتی کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخی بگھاری کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ’’دہشت گردوں کو پھانسی دی جائے گی‘‘۔ اس نئے مقام پر متاثرہ خاندانوں کے لیے پھانسی کا عمل دیکھنے کے لیے خصوصی بوتھ بھی بنائے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت رواں برس پارلیمنٹ (کنیسہ) سے منظورشدہ ایک متنازع قانون کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے الزامات میں مجرم قرار پانے والے افراد کو لازمی طور پر موت کی سزا دی جائے گی۔
تاہم، اس قانون میں یہودی انتہا پسندوں کو اس سزا سے محفوظ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ قانون صرف ان قتل کے مقدمات پر لاگو ہوتا ہے جو "ریاست اسرائیل کے وجود سے انکار کی نیت سے” کیے گئے ہوں۔
Ministro da Segurança Nacional de Israel, Itamar Ben-Gvir exibe estrutura de enforcamento de palestinos e posa ao lado de cabine destinada a execuções. pic.twitter.com/SpKNF79oDQ
— Notícias Paralelas (@NP__Oficial) August 20, 2026
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ سمیت مختلف اداروں نے اس قانون کو بنیاد پرست اور صریحاً امتیازی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایمنسٹی کی سینئر ڈائریکٹر ایریکا گیوارا روساس نے کہا تھا کہ یہ قانون منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف ہے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مزید تقویت دیتا ہے۔
عالمی برادری کا شدید ردعمل
اتمار بن گویر کے اس اقدام اور حالیہ غیر انسانی بیانات پر دنیا بھر سے شدید مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں بن گویر نے غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے 40 افراد کو نشانہ بنانے اور انہیں قتل کرنے کی پالیسی کی وکالت کی تھی، جس پر عالمی رہنماؤں نے کڑا نوٹس لیا۔
اقوام متحدہ: سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بن گویر کے بیانات کو انتہائی ہولناک، غیر انسانی اور خطرناک قرار دیا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ: ژان نوئل باروٹ نے ان بیانات کو ناقابل قبول اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔
جرمن چانسلر: فریڈرک مرز نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان غیر انسانی اپیلوں کی شدید مذمت کی ہے۔
برطانیہ: برطانوی حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع (E1 پراجیکٹ) پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کر لیا ہے اور اسے دو ریاستی حل کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

