کیلیفورنیا:ٹیکنالوجی کے جادوگر اور دنیا کی معروف ترین کمپنیوں کے مالک ایلون مسک (Elon Musk) نے ایک بار پھر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کی کمپنی ‘نیورا لنک’ (Neuralink) کی جانب سے ایک ایسے ہدف پر کام جاری ہے جو کبھی محض سائنس فکشن فلموں کی حد تک محدود سمجھا جاتا تھا—کیا دماغ کے اندر ایک ‘تیسری آنکھ’ نصب کر کے نابینا افراد کو دنیا دیکھنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے؟
بلائنڈ نیس ٹو برائٹنس: بلائنڈنس کا خاتمہ یا نیا سائنسی خواب؟
حالیہ برسوں میں برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) ٹیکنالوجی نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، اس نے طب اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو دنگ کر دیا ہے۔ ایلون مسک کا دعویٰ اور ان کے سائنسی پروجیکٹس کا مقصد ہمیشہ سے انسانی جسمانی معذوریوں کو جدید ترین ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے چیلنج کرنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب آنکھیں یا بصابی عصب (Optic Nerve) کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو دماغ کا وہ حصہ جو بصارت کو پروسیس کرتا ہے، اب بھی فعال رہتا ہے۔ اگر دماغ کے اس حصے میں براہِ راست سگنلز منتقل کرنے کے لیے کوئی طاقتور برین چپ یا ٹیکنالوجی نصب کر دی جائے، تو کیمرے کی مدد سے حاصل ہونے والی تصاویر کو براہِ راست دماغی سگنلز میں بدلا جا سکتا ہے—بالکل ایسے جیسے دماغ کے اندر ایک ‘تیسری آنکھ’ بیدار کر دی گئی ہو۔
جہاں ایک طرف یہ ٹیکنالوجی معذور اور بینائی سے محروم افراد کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھری ہے، وہیں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ عضو ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ہارڈویئر یا چپ نصب کرنا ایک انتہائی نازک اور طویل سائنسی عمل ہے۔
تاہم، اگر نیور لنک اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ میڈیکل سائنس کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب ثابت ہوگا، جس کے بعد کروڑوں نابینا افراد ایک بار پھر اس خوبصورت دنیا کو دیکھنے کے قابل ہو سکیں گے۔ دنیا بھر کے افراد ، ڈاکٹرز اور محققین اب اس ٹیکنالوجی کے اگلے کلینیکل ٹرائلز اور حتمی نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

