اسلام آباد: مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے کہ حکومت کی جانب سے جولائی 2026 کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت ملک بھر کی تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین سے 34 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں تقریباً 2.50 روپے فی یونٹ تک اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی کے مہینے میں بجلی کی کھپت میں اضافے اور بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے ایندھن کے استعمال کی وجہ سے مثبت ایف سی اے کی شرح زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ طلب کو پورا کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی اور فرنس آئل خریدا گیا، بالخصوص عروج کے اوقات میں، جس سے بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت آسمان کو چھونے لگی۔
واضح رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس سے قبل جون 2026 کے لیے 0.7503 روپے فی یونٹ مثبت ایف سی اے منظور کیا تھا، جب کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) نے 1.20 روپے فی یونٹ کی درخواست دی تھی۔ اب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بوجھ میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔
سی پی پی اے-جی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر نیپرا تمام اخراجات کا تفصیلی حساب کتاب کرے گا، جس کے بعد ہر ڈسکو کے لیے الگ سے ایف سی اے کا تعین کیا جائے گا۔ اس کٹہرے میں سی پی پی اے-جی سے حاصل کردہ بجلی، دو طرفہ معاہدے اور نیٹ میٹرنگ کے تمام انتظامات کو شامل کیا جائے گا۔
بجلی کے ٹیرف میں یہ ممکنہ اضافہ ایسے نازک وقت میں متوقع ہے جب ملک کا صنعتی شعبہ پہلے ہی توانائی کے بلند نرخوں اور پیداواری لاگت کا بوجھ اٹھا رہا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال نے برآمد کنندگان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
حالیہ اجلاس کے دوران تقریباً 4.9 ارب روپے کے جزوی لوڈنگ چارجز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سی پی پی اے-جی کا کہنا ہے کہ یہ اضافی اخراجات کسی آپریشنل نااہلی کی وجہ سے نہیں بلکہ دن کے وقت روف ٹاپ سولر پینلز کی وجہ سے گرڈ پر بجلی کی طلب میں کمی کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ دن کے اوقات میں سولر کی پیداوار زیادہ ہونے کی وجہ سے پاور پلانٹس کو جزوی لوڈ پر چلانا پڑتا ہے، اور پھر شام کے وقت طلب بڑھنے پر انہیں دوبارہ فل کیپیسٹی پر چلانا پڑتا ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق اگرچہ نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے طلب کم ہوئی ہے، تاہم اس کے اثرات سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر اتنے نمایاں نہیں ہوں گے جتنے صنعتی حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بجلی صارفین پربم گرانے کی تیاریاں: فی یونٹ ڈھائی روپے تک اضافے کا امکان، 34 ارب روپے جیبوں سے نکلوائے جائیں گے

